Thursday, 28 December 2017

شرفِ انسانی

شرفِ انسانی
انسان کو اشرف المخلوقات کا شرف حاصل ہے، کون ہے جو اس بات کو نہیں جانتا۔ کہنے کو سب کہتے ہیں اور مانتے بھی ہیں کہ انسان کو دیگر تمام مخلوقات پہ ایک برتری اور فضیلت حاصل ہے۔ لیکن عجیب بات ہے کہ جب اُس شرف کی بابت کسی سے دریافت کیا جائے کہ انسان کو حاصل وہ شرف اصل میں کیا ہے، عقلِ سلیم اُس کو سن کر مطمئن نہیں ہو پاتی۔ مثلاً جس بات کا سب سے زیادہ اعادہ کیا جاتا ہے وہ یہ کہا جانا ہے کہ انسان کو یہ شرف عقل اور فہم کی وجہ سے حاصل ہے کیونکہ اسی کی وجہ سے وہ دوسری مخلوقات سے بہتر ہے اور اُن سے خدمت لیتا اور اُن پر حکومت کرتا ہے۔ اگر ہم اس بات کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کریں تو یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ انسان کی بہت سی ایجادات ایسی ہیں جو اُس نے جانوروں سے نقل کی ہیں۔ گھر بنانا ہو یا ہوا میں اڑنا، لاسلکی نظام ہو یا گھروں میں روشنی بہم پہنچانا یہ سب انسان نے جانوروں سے اخذ کیا اور سیکھا۔ اس کا صاف اور سیدھا مطلب تو یہی ہوا کہ جانوروں میں انسان سے زیادہ عقل و شعور ہے۔ اسی طرح جانوروں میں موجود صلاحیتوں کو دیکھیں تو انسان میں موجود ہر صلاحیت کسی نہ کسی دوسرے جاندار میں انسان سے کہیں زیادہ دستیاب نظر آتی ہے۔ کتنے کے سونگھنے کی حس ، عقاب کے دیکھنے کی صلاحیت، قوت اور طاقت کا اظہار ہو، خطرات کو بھانپنے کی حس ہو یا زلزلے کی آمد سے پیشتر بے چینی کا اطہار کرنے کی بات آئے تو جانور انسانوں سے کہیں زیادہ آگے نظر آتے ہیں۔
مطلب یہ ہوا کہ انسان کی اصل فضیلت اور شرف وہ نہیں ہے جو کہ ہم نے اپنی دانست میں سمجھ رکھا ہے۔ ہم اُس چیز کو بھلا کیسے اور کیونکر حاصل کرسکتے ہیں جس کی بابت ہماری معلومات مکمل نہ ہوں۔ اگر ہم اس شرف کو جو اللہ نے انسان کو عطا کیا ہے سچ مچ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے ہمیں اُس کی بابت اپنی معلومات اور فہم کو مکمل کرنا ہوگا۔ جب ہم اس بات سے پوری طرح آگاہ ہو جائیں گے کہ وہ شرف اصل میں کیا ہے، جس کی بنیاد پر انسان کو اشرف المخلوقات کہا جاتا ہے، تب ہی ہم خود کو اس کے لئے تیار کر سکیں گے ورنہ کہی ہوئی بات ہے، سن کر اس کا مزہ لیا اور اللہ اللہ خیر صلا۔
الہامی کتب اور قرآنِ حکیم میں انسان کی تخلیق کی جو وجہ بیان کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ احسن الخالقین نے اس کو خلافت الٰہیہ کے جلیل القدر منصب پر فائز کرنے کے لئے وجود بخشا اور اس دنیا میں بھیجا۔ انسان کا  خلافتِ الٰہیہ کے قابل ہونا ہی اس کا اسل شرف اور فضیلت ہے۔ لیکن اگر غیر جانبداری سے اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ ہم میں سے کتنے انسان اس منصب جلیلہ کے واقعی اہل ہوسکے ہیں، اہل ہونا تو دور کی بات ہم میں سے کتنے ایسے ہیں جو اس بات کا درست ادراک رکھتے ہیں اور اس کے لئے باقاعدہ کوشاں بھی ہیں کہ ہم خود کو اس اعزاز کا اہل ثابت کر سکیں، تو یہ دیکھ کر شعور و
وجدان کا سر شرم سے جھک جاتا ہے کہ اس کا جواب اثبات میں دینا اگر نا ممکن نہیں تو بہت دشوار ضرور ہے۔
اس بات کا سیدھا اور سامنے کا حل تو یہی بنتا ہے کہ ہم کو سب سے پہلے تو یہ بات شعوری طور پر نہایت وضاحت سے سمجھنا ہوگی کہ خلافتِ الٰہیہ کا اصل مفہوم کیا ہے اور جب ہمیں یہ بات  درست طور پر سمجھ آ جائے تو ہم اس کے حصول کے لئے عملی طور پر کوشاں ہو جائیں۔ اگر ہمارے نظام درس و تدریس کو اس بنیاد پر استوار کیا جا سکے تو فرد کی انفرادی اور اجتماعی زندگی، اس کے ارد گرد کے ماحول اور اس کے معاشرے کے علاوہ انسان کی آخروی زندگی بھی سنور سکتی ہے۔
انسانی زندگی کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان اپنی زندگی میں کچھ ایسے اعمال اور افعال سرانجام دیتا ہے جو انسان اور تمام جانداروں میں مشترک ہیں۔ مثلاً سونا، جاگنا، کھانا،پینا ، غصہ کرنا، آپس میں لڑنا ، افزائش نسل  کرنا، اپنے بچوں کی پرورش اور پرداخت کا اہتمام کرنا، گروہی اور معاشرتی نظام کے تحت زندگی بسر کرنا وغیرہ ایسے اعمال اور افعال ہیں جو جانور بھی کرتے ہیں اور انسان بھی۔ یہ اور ایسے دیگر تمام افعال کی بابت گویا یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ حیوانی سطح کے اعمال اور افعال ہیں۔
علمائے باطن ایسے اعمال اور افعال کو روحِ حیوانی سے منسوب کرتے ہوئے  انسان کو اس کی روح کی برتر سطح کی طرف متوجہ کرنے میں کوشاں رہتے ہیں اور بتاتیں ہیں کہ کچھ اعمال اور افعال ایسے ہوتے ہیں جو نہ تو جانور سرانجام دیتے ہیں اور نہ ہی دے سکتے ہیں کیونکہ یہ وہ اعمال اور افعال ہوتے ہیں جو روحِ انسانی ہی کے تحت انجام پاتے ہیں۔ تصویر بنانا، کتب تحریر کرنا، کتب کا مطالعہ کرنا ، فلم بنانا، دیکھنا، کاروبار کرنا، ایجادات کرنا، علم حاصل کرنا وغیرہ ایسے کام ہیں جن کو کرنے سے جانور اس لئے عاجز ہیں کیونکہ ان میں روح کی وہ سطح موجود نہیں ہوتی جو انسان کو عطا ہوئی ہے۔ روح کی اس سطح کو روحِ  انسانی کا نام دیا جاتا ہے۔ روحِ انسانی کے تحت سرانجام دیئے جانے والے کام انسان کا طرہ ء امتیاز تو ضرور ہیں لیکن یہ سب کچھ بھی کرنے کی اہلیت اور قابلیت رکھنا بھی وہ شرف نہیں  جن کی وجہ سے انسان اشرف المخلوقات کہلاتا ہے۔
قرآنِ حکیم کی تعلیمات کے مطابق انسان کا اصل شرف یہ ہے کہ اُس کو اللہ نے روح کی اُس برتر سطح سے نوازا ہے جس کو علمائے باطن روحِ اعظم کہ کر متعارف کرواتے ہیں۔ جو انسان اپنی روح کی اس برتر اور اعلیٰ سطح کا ادراک حاصل کر لیتا ہے وہی انسان خلافت الٰہیہ کے جلیل القدر نصب پر فائز ہونے  کا امیدوار ہوسکتا ہے۔ شرف انسانی اصل میں یہی ہے کہ انسان ایسے کام کرکے دکھائے جو انسان بھی نہیں کرتے۔ یعنی شرفِ انسان ایسے کام کرنے پہ آمادہ ہو جو اللہ کی سنت کے ذیل میں آتے ہیں۔ معروف روحانی سکالر حضرت خواجہ شمس الدین عظیمیؒ فرماتے ہیں کہ مخلوق کی خدمت اللہ کی ایسی سنت ہے کہ جس نے بھی اس راہ کو ثابت قدمی اور استقامت سے اختیار کیا، وہی عزیز جہاں بھی ہوا اور اللہ کا دوست بھی بنا۔ اور انسان کے قبضہ قدرت میں اتنا ہی ہے کہ وہ مخلوق خدا کی خدمت کو اپنا شعار بنا کر اللہ کے دوستوں میں شامل ہو جائے۔ اب اللہ اپنے دوستوں میں سے کس کو اپنی نیابت کے کیسے فرائض کی انجام وہی پر مامور کرتا ہے یہ اللہ تعالیٰ کی اپنی مرضی اور مصلحت پہ منحصر ہے۔
خود شناسی اور خدا شناسی کی تمام راہوں کا نقطہ آغاز یہی بات ہے کہ انسان اپنے شعور کو ایسی طرزوں پہ استوار کرلے جو اس قدم قدم چلا کر ایک طرف الہ سے اور دوسری طرف مخلوق خدا سے ہم رشتہ کر دیں۔ انبیاء کرام انسان کو جس طرزِ فکر سے متعارف کروانے کا اہتمام کرتے تھے اُس طرز فکر کو رحمانی طرزِ فکر کے علاوہ کوئی دوسرا نام نہیں دیا جاسکتا۔ اُن کی طرزِ فکر میں مثبت اور تعمیری اندازِ نظر کے ساتھ ساتھ خلوص اور ہمدردی کے جذبات کو بنیادی مقام حاصل ہوا کرتا تھا۔ طرزِ فکر میں خلوص ہو تو انسان خالقِ کائنات سے ، اور ہمدردی ہو تو مخلوق خدا سے تعلق استوار کرنے کے ہزاروں راستے بن ہی جایا کرتے ہیں۔ طرزِ فکر میں خود غرضی اور خود نمائی ہو تو خلوص اور ہمدردی جیسی اعلیٰ صفات بھی منفی اور تخریبی انداز میں استعمال ہونے لگتی ہیں۔ ایسی طرزِ فکر کو  شیطانی  طرزِ ہی کہا جاسکتا ہے۔
اساتذہ کرام کو یہ بات ذہن نشین کرنے اور عملی طور پر اس پر کار بند رہنے کی ضرورت ہے کہ اہ اپنے تلامذہ میں وہی طرزِ فکر پیدا کرسکتے ہیں، جو خود اُن کی اپنی طرزِ فکر ہے۔ ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ خود تو آپ کی طرزِ فکر کچھ اور ہوا اور آپ کے شاگردوں میں کوئی اور طرزِ فکر راسخ ہوسکے۔ اس لئے اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے تلامذہ میں رحمانی طرزِ  فکر نہ صرف یہ کہ پیدا ہو جائے بلکہ وہ اُس کو اپنا بھی لیں ، تو سب سے پہلے خود آپ کو اس طرزِ فکر کا عملی نمونہ پیش کرنا ہوگا ورنہ بصورتِ دیگر آپ کہیں گے کچھ اور آپ کے تلامذہ سمجھیں گے کچھ اور، اور نتیجہ یہ ہوگا کہ آپ کہتے ہی رہ جائیں گے اور ہوگا کچھ بھی نہیں۔ اس کی نہایت ہی عام سی  مثال یہ ہے کہ آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے شاگردوں میں ہمدردی ہو اور وہ مخلوق خدا کی خدمت میں عملی طور پر کوشاں ہوں۔تو جب تک آپ زبان سے کہتے رہیں گے کسی کی سمجھ میں یہ بات آ ہی نہیں سکتی کہ ہمدردی کسے کہتے ہیں اور ہمدردی کا عملی اظہار کیسے کرنا بہتر رہے گا، کس سے ہمدردی کریں اور کس سے ہمدردی نہیں کی جانی چاہئے اور یہ کہ ہمدردی کا رشتہ مخلوق خدا کی خدمت سے کیسے اور کیونکر جوڑا جا سکتا ہے؟ اس لئے یہ بات بہت ہی ضروری ہو جاتی ہے کہ اس بات سمجھنے میں آسانی  ہو جائے گی کہ ہمدردی کا اسل مفہوم یہ نہیں ہے کہ انسان کسی چالاک اور چرب زبان آدمی کے ہاتھوں بے وقوف بن کر بھی یہی سمجھتا رہے کہ وہ ہمدردی کر رہا ہے۔
اور اس بات سے بھلا کس کو انکار ہوسکتا ہے کہ جب تک کہی گئی بات پوری طرح سمجھ میں نہ آئے اُس پر عمل کرنا اگر نا ممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوتا ہے۔ اس لئے ہمارے نظامِ تعلیم کے تمام اراکین خواہ وہ حکومت ہو، والدین ہوں ، اساتذہ کرام ہوں یا طلباء سب کے لئے لازم ہو جاتا ہے کہ وہ اس پہ کار بند اور عمل پیرا ہونے کے لئے شرف انسانی کی اصل روح کو سمجھیں اور باقاعدہ طور پر ایک لائحہ عمل طے کرکے اس کے حصول کے لئے عملی طور پر کوشاں ہو جائیں۔
یہاں اس بات کا تذکرہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے کہ طرزِ فکر ہی وہ اساس ہے جس پر تمام اعمال اور افعال انسانی کا دارومدار ہوا کرتا ہے۔ اگر طرزِ فکر تعمیری رحجان نمایاں ہوگا تو طرزِ عمل بھی تعمیری انداز اختیار کرلے گا اور اگر طرزِ فکر  میں تخریب اور منفیت ہوگی تو طرزِ عمل میں تعمیر کی توقع کرنا محض خام خیالی ہی ہوسکتی ہے۔
طرزِ فکر سے مراد انسانی سوچ کا وہ سانچہ ہے جو انسان کے اندر موجود جذبات اور ذہن میں آنے والے خیالات کو ایک مخصوص طرز اور نہج کے مطابق ڈھال دیتی ہے۔ اگر انسان کی طرزِ فکر میں ہمدردی ہوگی تو ایسا انسان دوسروں کے جذبات کا خیال رکھنے کا جذبہ بھی رکھتا ہوگا اور ایسے آدمی کو اگر غصہ آبھی جاتا ہے تو  وہ یہ سوچ کر کہ اُس کے غصے سے دوسرے  کا دل دُکھے گا ، غصے سے اجتناب کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
اس مثال سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ طرزِ فکر کے درست ہونے سے انسانی جذبات کا اظہار مناسب انداز میں ہونے لگتا ہے۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ انسانی رویے مثبت انداز اختیار کرتے چلے جاتے ہیں۔ جب کسی انسان کا رویہ درست ہو جاتا ہے تو نہ صرف یہ کہ دوسروں کو اس کی ذات سے تکلیف نہیں پہنچتی بلکہ خود اُس کی اپنی پریشانیاں بھی کم ہوجاتی ہیں اور اُس کی کامیابیوں کا تناسب بھی بڑھ جاتا ہے۔
طرزِ فکر کے ضمن میں اس بات کا ذکر بھی ضروری ہے کہ طرزِ فکر کوئی ایسی چیز  نہیں ہے کہ جس کی بابت محض کسی سے سن کر اُس کو اپنایا بھی جاسکتا ہے۔ کسی بھی قسام کے طرزِ فکر کے حصول کے لئے کسی ایسے بندے کی قربت بہت ضروری ہے جس کو وہ طرزِ فکر حاصل ہو۔ اگر کسی کو کاروبار سیکھنے کی خواہش ہو تو اُس کے لئے کسی ایسے شخص کی قربت اور صحبت اختیار کرنا ضروری ہے جو کاروباری ذہن کا مالک ہو۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو وہ کاروبار نہیں کر سکتا۔ یہ سمجھنا کہ محض کتاب پڑھ کر اور ایسے اساتذہ کے لیکچر سن کر وہ کاروبار کر بھی سکے گا جنہوں نے نہ تو خود کبھی کاروبار کیا ہو اور نہ ہی یہ سمجھا ہو کہ کاروبار کسے کہتے ہیں، تو یہ درست نہیں ہوگا کیونکہ جب تک ذہن میں کاروباری فکر کی طرزیں راسخ نہ ہوں وہ جو بھی کام کرے گا اُس میں نقصان ہی اُٹھائے گا۔ بعض لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ فلاں صاحب نے نیا نیا کاروبار شروع کیا اور اُس میں اُن کو بہت فائدہ بھی ہوا۔ اگر اُن صاحب کی زندگی کا قریب سے جائزہ لیا جائے تو اُن کے اصحاب میں کوئی نہ کوئی ایسا فرد ضرور مل جائے گا جو کاروباری ذہن کا حامل ہوگا اور وہ صاحب اُن سے متاثر بھی بہت ہوں گے۔ شعوری طور پر نہیں تو انہوں نے لاشعوری طور پر اُن سے ضرور اکتسابِ فیض کیا ہوگا۔
اسی طرح بچے بھی اپنے اُن اساتذہ کرام کی طرزِ فکر کو شعوری یا لاشعوری طور پر اپنا لیتے ہیں جن کی فکر، باتوں، عادات اور رویے سے وہ کسی نہ کسی طور متاثر ہوتے ہیں۔ اور جب بات متاثر ہونے کی ہو تو اساتذہ کرام کو یہ بات ذہن نشین کرنا ہی ہو گی کہ اُن کی شخصیت میں اتنی اثر پذیری ہونا کس قدر ضروری ہے کہ اُن کہ تلامذہ اُس سے متاثر ہوکر اُن کی طرزِ فکر کو اپنا لیں۔
اس بارے میں بعض اساتذہ کرام کا خیال یہ ہے کہ محض پینتالیس منٹ کے ایک پیریڈ میں وہ کیا کریں۔ ادھر جب کبھی وہ بچوں کی توجہ اپنی طرف جذب کرنے میں کامیاب ہو بھی جاتے ہیں تو ادھر گھنٹی بج جاتی ہے اور بچے چونک کر اُن کی شخصیت اور گفتار دونوں کے سحر سے نکل جاتے ہیں اور ساری محنت اکارت چلی جاتی ہے۔ اس بات کا حل وہی اساتذہ نکال  سکتے ہیں جو اپنی شخصیت اور کردار کی اثر پذیری سے اپنے تلامذہ کو حقیقتاً متاثر کرنے کے آرزومند ہوں۔ اس ضمن میں وہ یہ دلیل بھی دیتے ہیں کہ پہلے ایک ہی استاذ تمام وقت بچوں کے سامنے ہوا کرتا تھا اور اس لئے ان کو اُس کی شخصیت سے متاثر ہونے کا، اس کی شخصیت کو اپنے اندر جذب کرنے کا بھر پور موقع ملتا تھا۔ اب جبکہ سبجیکٹ سپیشلائزیشن کا دور ہے ایک ٹیچر  کو اتنا وقت ہی کہاں ملتا ہے کہ وہ بچوں کو اپنی شخصیت سے متعارف کروا سکے۔

لیکن اس کے برعکس ایک خیال یہ بھی پایا جاتا ہے کہ ایک اچھی شخصیت کا حامل بندہ اپنے اظہار میں ایسے کسی خیال کو رکاوٹ نہیں بننے دیتا۔ وہ خواہ کچھ بھی پڑھاتا ہو، وہ کچھ بھی کرتا ہو اگر اس کی شخصیت میں کشش اور اثر پذیری ہے تو وہ ہر حال میں اپنا تاثر قائم کرے گا۔ لیکن ہم اس دوڑ میں حصہ لینے پر تبھی آمادہ ہوں گے جب پیسے اور دولت کی دوڑ سے فراغت پا سکیں گے اور جب تک ایسا نہیں ہو جاتا تو کیا کیا جاسکتا ہے؟

علم اور تعلیم

علم اور تعلیم
علم کی بات ہو تو ذہن میں اس مفہوم جان کاری، آگاہی اور واقف ہونا ہی آتا ہے۔ عرفان و آگہی اسی لئے علم سے متعلق قرار دیئے جاتے ہیں کہ علم حاصل ہونے کے نتیجے میں وہ ذہن تشکیل پاتا ہے جو انسان کو خارج سے حاصل ہونے والی معلومات کی سطح سے اوپر اٹھ کر اپنے باطن میں موجود حقائق سے روشناس ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ تعلیم کا مطلب درحقیقت تحصیل علم ہی ہے اور اس ہی لئے طالبِ علم، متعلم اور معلم کی اصطلاحات عم کے حاصل کرنے اور علم کی راہ پر گامزن کرنے اور اس کے حصول میں مدد کرنے والوں کے لئے استعمال ہونا شروع ہوئیں۔
حصول علم کا مستند ذریعہ تو مشاہدہ ہی ہے۔ یہ مشاہدہ خارج میں موجود اشیاء کا بھی ہوسکتا ہے اور اشیاء اور شاہد کے باطن میں موجود حقائق کا بھی۔ کسی بات کا تجربہ کرنا مشاہدہ کے لوازم میں آتا ہے۔ یعنی تجربہ مشاہدے کے لئے اساس فراہم کرتا ہے اور تجربے کے نتیجے میں کچھ حقائق انسان کے مشاہدے میں آ جاتے ہیں۔ انسان ان حقائق کی بنیاد پر جو اس کو اپنے مشاہدات کے ذریعے حاصل ہوتے ہیں، کچھ نتائج اخذ کرکے اپنی زندگی ان کی روشنی میں بسر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ انسان کی قوتِ مشاہدہ جس قدر توانا ہوتی ہے اس کے مشاہدات بھی اسی قدر جامع اور مکمل  ہوتے ہیں اور جس قدر مشاہدات جامع اور مکمل ہوتے ہیں وہ حقائق کی اصل کے اتنے ہی قریب ہو جاتا ہے  اب جتنا زیادہ کوئی حقیقت کے قریب ہوتا ہے اسی قدر اس کی زندگی بہتر ہوتی چلی جاتی ہے۔
مشاہداتی طرزوں سے محروم انسان کے پاس حصولِ علم کا جو راستہ باقی رہ جاتا ہے وہ یہ ہے کہ وہ کسی دوسرے کے مشاہدات سے استفادہ کرے۔ بچہ اپنے ماں باپ کا کہا مان کر ان کے تجربات اور مشاہدات ہی سے تو استفادہ کرتا ہے۔  ماں باپ کے بعد وہ اپنے اساتذہ کرام کی باتیں سن کر ان کے تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں اپنی زندگی کا سفر طے کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اساتذہ کرام اپنے تلامذہ کو جو کتب پڑھاتے ہیں وہ ان کتب کے مصنفین کے علم، تجربے اور مشاہدات کا نچوڑ ہوتی ہیں۔ یعنی کتب کا مطالعہ دوسروں کے تجربات اور مشاہدات سے استفادے کا ایک ذریعہ ہے مطالعہ کرنا  تحصیل علم کا ایک ذریعہ تو ضرور ہے مگر ہم نے اسی کو علم کے برابر قرار دے کر علم و آگاہی کی پوری دیوار ہی کج کی ہوئی ہے۔
مطاعہ کتب کا اصل مقصد دوسروں کے تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں اپنے تجربات اور مشاہدات کو بہتر کرنا ہو تو علم میں واقعتاً اضافہ ہوسکتا ہے لیکن اگر مقصد محض امتحان پاس کرنا ہو تو پھر اکثر ایسا نہیں بھی ہو پاتا ۔ نہ ہی علم میں اضافہ ہوتا ہے اور نہ ہی امتحان میں کامیابی نصیب ہوتی ہے۔ جب مطالعہ کا اصل مقصد ہی حذف ہو چکا ہو تو اس کے منطقی نتائج کی توقع بھی عبث ہی قرار پائے گی یعنی علم سے محروم ہی رہا جائے گا۔ ہمارے پورے تعلیمی نظام میں انقلاب تبھی آسکتا ہے جب ہم اپنے بچوں ، شاگردوں اور طلباء میں مطالعہ کا درست شعور اجاگر کر سکیں گے۔ مطالعہ اور خواندگی میں جو فرق ہے ہمیں اس کو خود بھی سمجھنا ہوگا اور دوسروں کو بھی بتانا ہوگا۔
خواندگی کا مطب ہے کسی تحریر کو پڑھ لینے کی قابلیت ہونا۔ تعلیم بالغان اور پرائمری درجات میں سارا زور خواندگی سکھانے پر ہوتا ہے۔ حروف کی شناخت اور ان سے متعلقہ آوازوں کی ادائیگی  کے بعد حروف کی متعلقہ آوازوں کو ملا کر ادا کرنا اور الفاظ کو ایک ایک کرکے پڑھتے ہوئے اس قابل ہو جانا کہ پورے پورے جملے اور پھر صفحوں کے صفحے پڑھ لینا، یہ سب محض خواندگی کے زمرے میں آتا ہے۔ خواندگی سیکھنے کے بعد اس کی بھر پور مشق ہونے کے نتیجے میں پڑھنے کی رفتار بننا شروع ہو جاتی ہے۔ اب اگر توجہ پڑھی جانے والی تحریر کے مفہوم پر مرکوز ہو تو اس تحریر کے ذریعے بیان کی جانے والی بات سمجھ آنے لگتی ہے۔ باالفاظِ دیگر اگر کسی تحریر کو پڑھ کر یہ سمجھ میں نہیں آیا کہ مصنف نے کیا کہا ہے اور کے کہنے کا اصل مقصد و مدعا کیا تھا تو یہ اس تحریر کی محض خواندگی ہی ہوئی۔ خواندگی میں اعضائے جسمانی کی حرکات یعنی آنکھ سے دیکھنا، دماغ کے شعبہ یاداشت سے شناخت کرنا اور منہ سے الفاظ کی ادائیگی جیسے اعمال ہی سرزد  ہوتے ہیں اور انہی کی تکرار ہوتی رہتی ہے۔ جب کہ مطالعہ کے دوران قوائے جسمانی کے ساتھ، ساتھ قوتِ متخیلہ اور قوتِ فیصلہ جیسی باطنی صفات بھی حرکت میں رہتی ہیں اور مطالعہ کرنے والے کو ان صفات کے استعمال کی مشق کے مواقعے فراوانی سے دستیاب ہوتے ہیں۔
مطالعہ درحقیقت کسی تحریر میں مستور اُن تصاویر کو اپنے ذہن کی سکرین پر اجاگر کرنے کا عم ہے جو کسی مصنف نے الفاظ کی مدد سے صفحہ قرطاس پر سجائی ہوتی ہیں۔ اگر کسی تحریر کو خواہ وہ نثر ہو یا شاعری، پڑھنے کے دوران اگر قاری کے ذہن میں کوئی تصویر نہیں بن رہی تو یہ عمل خواندگی تو ضرور ہوا لیکن مطالعہ نہیں ہوسکتا۔ اس بات کی وضاحت کچھ یوں بھی کی  جاسکتی ہے کہ ایک مصنف جو کچھ لکھتا ہے وہ کسی نہ کسی خیال کی وضاحت کے لئے تحریر کرتا ہے اور اگر قاری اُس خیال کو اپنے ذہن کی گرفت میں لے لیتا ہے تو تحریر کی خواندگی مطالعہ کی حدود میں داخل ہو جتی ہے۔
جب قاری لکھنے والے کے خیال سے اتفاق کرتا ہے یا نہیں، اُس کو رد کر دیتا ہے یا اُس میں کی کمی کی نشاندہی کرتا ہے، یہ سب باتیں مطالعہ کے اجزائے ترکیبی کہلاتی ہیں۔ اس قسم کے مطالعہ ہی سے انسان کے ذہن میں وسعت اور گہرائی پیدا ہوسکتی ہے ورنہ تو ہم قرآن  ناظرہ کی تلاوت بھی صدیوں سے کر ہی رہے ہیں۔
خواندگی کی سطح سے بلند ہوکر مطالعہ کرنے کے لئے ضروری ہے کہ الفاظ کے معانی اور مفاہیم کا مناسب ذخیرہ بھی یاداشت میں محفوظ ہو۔ اس کے لئے اساتذہ کرام کو اپنے تلامذہ میں لغت اور ڈکشنری کے استعمال کا شعور اجاگر کرنے پر مناسب توجہ دینی چاہئے۔ اس کا آسان سا طریقہ تو یہی بنتا ہے کہ وہ اپنے تلامذہ کو مختلف الفاظ دے اس بات کا پابند کریں کہ وہ ان کے مطالب کے ساتھ، ساتھ بھی بتائیں کہ یہ الفاظ کس مادے سے بنے ہیں اور اصل میں کس زبان کے ہیں۔ اس سے ملتے جلتے کئی اور طریقے بھی وضع کئے جاسکتے ہیں جن سے لغت اور ڈکشنری کے استعمال کی حوصلہ افزائی ہو اور طلباء  کی رغبت اور شوق میں اضافہ ہوسکے۔
ہمارے یہاں کئی سکولوں میں بچوں کے بستوں میں ڈکشنریوں کی موجودگی سے انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن اصل بات تو اُن کافر وانی سے استعمال کرنے کی عادت ہے۔ بچے ڈکشنری کھولنے اور اُس میں مطلوبہ لفظ کی تلاش کی زحمت سے بچنے کے لئے اپنے اساتذہ سے اس کا مطلب دریافت کرنے کی آسان راہ کا انتخاب کرتے ہیں۔ اساتذہ کرام کو چاہئے کہ وہ موقع سے فائدہ اٹھانے کی حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے اُن کو اس بات پہ ابھاریں کہ وہ مطلوبہ لفظ کا مطلب خود ڈکشنری میں دیکھ کر اُن کو بتائیں۔
جب طلباء کو درست طور پر مطالعہ کرنا آتا ہوگا تو وہ خواندگی کی سطح سے بلند ہوکر افکار و نظریات میں دلچسپی لے سکیں گے۔ اساتذہ کا اصل کردار اپنے شاگردوں کو درست اور غلط افکار و نظریات میں تمیز کرنا سکھانا ہو تو تعلیم کے میدان میں اٹھنے والا ہر قدم راست سمت میں ہوتا ہے اور جب اساتذہ خود کو الفاظ کا مطلب بتانے کے کام تک محدود کر لیتے ہیں تو نتیجہ وہی کچھ ہوسکتا ہے جس سے اس وقت پوری قوم دوچار ہے اور اس سے نجات کی کوئی صورت بھی نظر نہیں آتی۔
اس بات کی وضاحت سے یہ بات بھی صاف ہوجاتی ہے کہ دو دو سال تک ایک ہی کتاب کی محض خواندگی ہی ہوتی رہتی ہے اگر ذوق مطالعہ اجاگر اور تجسس کی فطری قوت کو درست انداز میں تربیت دی جائے تو ایک کتاب کا مطالعہ سالوں اور مہینوں نہیں بلکہ محض گھنٹوں اور دنوں کی بت رہ جاتی ہے۔ اس بات کو کسی بھی زاویے سے دیکھیں اور حساب لگائیں کہ اگر ایک آدمی دوسو صفحات کی ایک کتاب کا مطالعہ دو سال میں بھی مکمل نہیں کرسکتا تو جب وہ کسی دفتر میں کام پر لگایا جائے گا اور اس کو زیادہ نہیں تو پانچ چھ فائلیں، جن میں سے ہر فائل چالیس تا پچاس صفحات کی ہو، پڑھ کر ان کے مندرجات کی بابت کوئی فیصلہ کرنا ہوگا تو اُس کو کتنی مدت درکار ہوگی؟ اگر وہ عملی زندگی میں آنے کے بعد اپنی رفتارِ خواندگی میں دوگنا اضافہ بھی کر لے تب بھی ان پاچ چھ فائلوں کو ان صاحب کی میز سے آگے جانے میں سال ڈیڑھ تو لگ ہی جائے  گا۔ اور اس میں اچنبھا بھی کیا ہے؟ کیا یہاں ہر دفتر میں اکثر یہی کچھ نہیں ہو رہا؟
اگر رفتار مطالعہ کو طالب علمی ہی کے زمانے میں نہ بڑھایا جائے تو بعد میں اس کو بڑھانے میں وقت ہوتی ہے اور زیادہ محنت درکار ہوتی ہے۔ مطالبہ کی رفتار بڑھانے کا سب سے اچھا طریقہ تیز رفتاری سے پڑھنے کی مشق کرنا ہی ہے۔ اس کے لئے پہلی بات تو یہ ضروری ہے کہ انسان مطالعہ کے دوران زبان حرکات کو مکمل طور پر روک کر صرف نگاہوں سے پڑھنے کی عادت کو اپنائے۔ آغاز میں گھڑی پاس رکھ کر مطالعہ شروع کیا جائے اور دیکھا جائے  کہ پانچ دس صفحات کتنی دیر میں پڑھے جاتے ہیں اور پھر انہی صفحات کو دوبارہ اور سہ بار پڑھ کر اپنے پڑھنے کی رفتار کو بتدریج بڑھایا جائے ۔ اگر اس قسم کے مطالعے کے لئے کسی ایسی کتاب کا انتخاب کیا جائے جو ذوق کے مطابق ہو اور اس کے موضوع میں پڑھنے والے کی دلچسپی بھی ہو تو بہتر نتائج کے حصول میں آسانی اور سہولت ہو جاتی ہے۔
جب ذوق مطالعہ کی بنیاد پڑ جاتی ہے تو انسان جو کچھ پڑھتا ہے، اسے سمجھ کر پڑھتا ہے اور قانون یہ ہے کہ جو بات سمجھ آجاتی ہے اس کو حافظہ بھی آسانی سے اپنے اندر محفوظ کر لیتا ہے اس کی نہایت عام سی مچال یہ ہے کہ ہم دیکھی ہوئی اشیاء ، مناظر اور واقعات کو با آسانی یاد کرسکتے ہیں۔ یہی وجہ یہ کہ بچے دیکھی ہوئی فلموں کے مناظر کی تفصیل تو وضاحت سے بیان کرسکتے ہیں لیکن پڑھی ہوئی بات کو حافظے کی سطح پر اجاگر تفصیل تو وضاحت سے بیان کرسکتے ہیں لیکن پڑھی ہوئی بات کو حافظے کی سطح پر اجاگر کرنے ین انہیں وقت ہوتی ہے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ بچوں کو فلمیں دیکھنے کی غیر ضروری ترغیب دی جانی چاہئے اس کا اصل مفہوم یہ ہے کہ بچوں اور بڑوں کو چاہئے کہ وہ مطالعہ کے دوران اپنے ذہن کی سکرین پر اس تصویر کو اجاگر کریں جو مصنف کے ذہن میں موجود آتی  اور اُس نے رنگوں کے بجائے الفاظ کے تانے بانے کی مدد سے اُ س کو قاری کے ذہن میں اجاگر کرنے کی کوشش کیا ہے اگر ایک دفعہ قاری کا ذہن اس منظر، واقعہ یا خیال کی تصویر کو دیکھ لیتا ہے جو مصنف دکھانا چاہتا ہے تو اس کا حافظہ اس کو باآسانی یاد میں واپس لا سکتا ہے۔
جب مطالعہ اس طرز سے ہوتا ہے تو انسان کی فہم بھی بڑھتی ہے اور اسطرح سیکھی گئی بات کو کبھی بھی اور کہیں بھی دہرایا جاسکتا ہے اور سب سے بڑی بات یہ کہ امتحان پاس کرلینے کے بعد بھی وہ حافظے  میں محفوظ رہتی ہے اور عملی زندگی میں کام بھی آتی ہے۔ پڑھنے کے ساتھ ساتھ لکھنا سیکھنا بھی خواندگی کا ایک جزو ہے۔ لکھنے سے اصل میں تو یہی بات مراد ہوتی ہے کہ انسان نے بولی جانے والی آوازوں کے ٹکڑے کرکے ان کی مفرد حالتوں کے لئے مختلف علامات مقرر رکھیں اور ان علامات کو حروف تہجی کا نام دے دیا ہے۔ جب کسی لفظ کی مقررہ صوتی علامات یعنی حروفِ تہجی کو ترتیب سے صفحہ قر طاس پر ظاہر کر دیا جاتا ہے تو اس عمل کو تحریر کرنا یا لکھنا کہا جاتا ہے۔ اس عمل کی جوں جوں مشق ہوتی چلی جاتی ہے انسان کے لکھنے کی رفتار بھی اسی نسبت سے بڑھتی چلی جاتی ہے۔ حروف تہجی کی مقررہ اصوات کو اردو، عربی اور فارسی وغیرہ جیسی زبانوں میں مختلف اعراب لگا کر کئی مزید آہنگ بھی احاطہ تحریر میں لانے کا اہتمام کیا گیا ہے۔
لکھنا سیکھنے کے ضروری ہے کہ انسان حروف کی اصوات کو ذہن نشین کر لے۔ اس کا ایک طریقہ یہ بی آزمایا گیا ہے کہ کسی حرف کو اس کے نام سے یا کرنے کی بجائے اس کی آواز سے یاد کیا اور کروایا جائے۔ مثلاً الف کو الف یاد کرنے کی بجائے اس کو اس کی آواز  یعنی 'آ' سے یاد کیا جائے۔ اسی طرح بے پے تے کی بجائے با، پا اور تا کہنے اور یاد کرنے سے لکھنے میں سہولت اور آسانی پیدا ہوجاتی ہے۔ طریقہ بہر حال کچھ بھی ہو لکھنے کی مشق کئے بغیر یہ سمجھنا کہ لکھنے میں روانی اور خوشخطی میں اضافہ ممکن ہوسکتا ہے محض ایک خام خیالی ہی ہوگی۔
لکھنے کی رفتار اور خوشخطی دونوں کو بیک وقت قائم رکھنا عام طور پر دشوار سمجھا جاتا ہے  اور یہ کہ کر بات کو ٹال دیا جاتا ہے کہ یہ خدا داد صلاحیت ہے۔ حالانکہ یہ محفل مشق کا کمال ہوتا ہے۔ اس کا طریقہ بھی کچھ زیادہ دشوار نہیں۔ لکھنا سیکھنے کے لئے الفاظ کی آوازوں کے ٹکڑے جوڑنا جس کو عرف عام میں ہجے کرنا کہتے ہیں، سیکھنا چاہئے۔ اس سے املا درست ہوجاتی ہے۔ ساتھ ساتھ تحریر کے حسن کا خیال رکھنے کو اگر یہ بھی بتایا جاتا رہے کہ خوشخطی کا اردو کے لئے آسان طریقہ یہ ہے کہ کھڑے حروف یعنی الف لام اور میم کو زاویہ قائمہ پہ سیدھا رکھا جائے اور بیضوی حروف یعنی  جیم ، چے ، سین شین صاد وغیرہ کو بیضوی شکل میں بنانے کی کوشش الگ سے کی جائے۔ جو حروف سطر کے ساتھ لٹا کر لکھے ہیں جیسے بے ، پے، تے وغیرہ کو سطر کے ساتھ لٹا کر لکھنے اور ان حروف کے سا‏ئز میں تناسب کا خیال رکھنے سے لکھائی خوشخط ہو جاتی ہے ۔ محض بچوں کی کاپیوں پی اتنا لکھ دینے سے کہ لکھائی بہتر کریں، لکھائی بہتر ہونے سے تو رہی۔
یوں تو ہر استاذ کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ اس کے تلامذہ کی تحریر خوشخط ہو اور وہ اس کے لئے کوشش بھی کرتے ہیں لیکن اگر وہ اوپر بیان کردہ چند جملے بچوں کے گوش گزار کرنے کے بعد اس بات کو یقینی بنالیں کہ ان کے شاگرد ان باتوں پر کار بند بھی رہیں تو یہ بات پورے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ جہاں تلامذہ کی خوشخطی دیکھ کر ایک طرف اساتذہ اور والدین خوش ہوں گے وہاں دوسری طرف بچے ساری عمر اپنے اساتذہ کو دعائیں دیا کریں  گے کہ انہوں نے ان کی لکھائی کو خوش خط بنانے میں اپنا کردار پوری طرح ادا کیا۔
مناسب ہوگا کہ چلتے چلتے انگریزی کا خط درست کرنے کی بابت بھی چند ایک باتیں عرض کر دی جائیں۔ انگریزی لکھنے میں کل چار باتوں کا خیال رکھنے سے انگریزی کی تحریر بھی خوشخط ہوتی ہے۔ انگریزی میں لکھنے کے دو ہی طریقے ہیں ایک جس میں حروف کو الگ الگ لکھا جاتا ہے اس کو پرنٹ رائٹنگ کہتے ہیں اور دوسرا جس میں حروف کو ملا کر قلم بند کیا جاتا ہے اس کو Joining  رائٹنگ کہا جاتا ہے۔ بچوں کو اول اول پرنٹ رائٹنگ پہ ڈالا جاتا ہے اور جب ان کا ہاتھ قدرے رواں ہو جاتا ہے تو ان کو ملا کر لکھنا سکھایا جاتا ہے۔ ہر دو صورتوں میں خوشخطی کے لئے ضروری ہے کہ
۱۔ حروف کے سا‏ئز یکساں ہوں،
۲۔ حروف اور الفاظ کے درمیان فاصلہ برابر ہو،
۳۔ ہر حرف ایک سے زاویے پہ جھکاؤ رکھتا ہو یعنی لکھے جانے والے تمام حروف میں ایک سا ترچھا پن ہو اور تمام حروف لائن کو دھیان میں رکھ کر لکھے جائیں،۔
۴۔ ہر حرف کی بناوٹ متناسب ہو۔
تو کوئی وجہ نہیں کہ کوئی بچہ بد خط رہ جائے لیکن شرط صرف یہی ہے کہ یہ باتیں بچوں کو کچھ اس طرح ذہن نشین کروا دی جائیں کہ وہ ان کے اندر پختہ اور راسخ ہو جائیں ۔ اور یہ کام مسلسل نگرانی کے بغیر ہو نہیں سکتا۔ اگر اساتذہ کرام زیادہ نہیں تو کم از کم ایک دو ماہ اس بات کی نگرانی کو یقینی بنا کر بچوں پہ یہ احسان کرسکتے ہیں کہ ان کی اردو اور انگریزی دونوں قسم کی لکھائی کو خوشخط بنوا سکتے ہیں۔
یہ نگرانی کی شرط اس لئے ضروری ہے کہ جب انسان کوئی نیا کام سیکھنا شروع کرتا ہے تو وہ اس کام کو ارادی طور کرتا ہے اور یہ انسانی فطرت ہے کہ جب اسکو کوئی کام ارادی طور پر کرنا پڑے تو وہ اس میں غلطیاں بھی کرتا ہے اور اس سے اکتاہٹ بھی محسوس کرتا ہے لیکن جب وہ اس کام کو اچھی طرح کرنا سیکھ لیتا ہے تو پھر وہ اس کام کو غیر ارادی طور  پر کرنے لگتا ہے۔ جب ایسا ہونے لگتا ہے تو پھر اسی کام کو وہ سہولت اور آسانی سے کرنے لگتا ہے۔ جب ایسا ہونے لگتا ہے تو پھر اسی کام کو وہ اس کام کو غیر ارادی طور پر کرنے لگتا ہے۔ جب ایسا ہونے لگتا ہے تو پھر اسی کام کو وہ سہولت اور آسانی سے کرنے لگتا ہے۔ اس کی ایک مثال سائیکل چلانا سیکھنا بھی ہے۔ جب ہم شروع شروع میں سائیکل چلانا سیکھتے ہیں تو چونکہ ہم اس کو ارادی طور پر کرتے ہیںاس لئے بار بار گرتے اور ٹکراتے ہیں۔ لیکن بار بار کی مشق سے جب ہم اس کام کو سیکھ لیتے ہیں تو پھر سائیکل چلانا ہمارے لئے ایک غیر ارادی فعل کی حچیت اختیار کر لیتا ہے اور ہمیں اس کو کرنے میں کوئی دشواری محسوس نہیں ہوتی۔ یہی حال مطالعہ سیکھنے اور اپنی لکھائی کو خوشخط بنانے کا بھی ہے۔ جب تک ہم مطالعہ اور تحریر کے کام کو  ارادی طور پر کرنا چاہتے ہیں، ہمیں اس میں دشواری بھی محسوس ہوتی ہے اور ہم غلطیاں بھی کرتے ہیں اور جب ہم مشق اور لگاتار مشق کرتے کرتے اس مقام کو حاصل کر لیتے ہیں جب یہ کام غیر ارادی افعال کی طرح سرانجام پانے لگتے ہیں تو یہی کام ہمارے لئے باعثِ خوشی ہو جاتے ہیں۔ لیکن یہ منزل حاصل کرنے میں سولہ سترہ سال لگا کر بھی ناکام رہنا، کیا یہ ہمارے نظام کا قصور ہے، ہمارے اساتذہ کی کوتاہی ہے یا خود ہماری اپنی نا اہلی؟
اگر بچوں کو یہ بات سمجھا دی جائے کہ خوشخطی کے حامل افراد کو دو فائدے ہمیشہ حاصل ہوتے ہیں ایک تو یہ کہ چونکہ اچھا خط دیکھنے میں بھلا لگتا ہے اس لئے ممتحن حضرات خوشخط لکھنے والوں کو زیادہ نمبروں سے نوازتے ہیں اور دوسرے، جو کہ اس سے بھی زیادہ اہم ہے، وہ یہ ہے کہ عام طور پر یہ مانا جاتا ہے کہ تحریر انسان کے باطن کا عکس ہوتی ہے اور اس لئے خوشخط آدمی اچھی سوچ، اچھے ذہن اور صاف حمیدہ کا حامل گردانا جاتا ہے اور برا خط رکھنے والے کی بابت اس کے برعکس اندازہ کیا جاتا ہے، تو دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ بچے بھر  پور کوشش کرتے ہیں کہ کچھ اور ہو یا نہ ہو ، کم از کم ان کا خط تو بہتر ہو جائے۔
انگریزی کے مضمون کی تدریس کے دوران ایک اور مسئلہ بھی اکثر تلامذہ کو درپیش رہتا ہے اور وہ ہے ہجے یاد رکھنے کا مسئلہ۔ اس کا بظاہر واحد حل تو یہی ہے کہ ہجے یاد کئے جائیں۔ اساتذہ اس ضمن میں بچوں کی یہ مدد کرسکتے ہیں کہ ان کو یہ بات سمجھا دیں کہ وہ حروف تہجی کی آوازوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہجے یاد کریں گے تو ان کو ہجے یاد کرنے میں سہولت ہوگی۔ چونکہ انگریزی میں اعراب نہیں استعمال کئے جاتے اس لئے وہاں حروف تہجی میں سے حروفِ علت  ( Vowels)  چار چار اور پانچ پانچ اصوات کے حامل ہوتے ہیں اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ اُن کی آوازوں کو اچھی طرح سے ذہن نشین کروایا جائے۔ اس سے جہاں انگریزی کو انگریزوں ہی کی طرح انگریزی لب و لہجے میں پڑھنے میں سہولت ہوتی ہے وہاں اس طریقے سے یاد کئے گئے ہجے اگر بھول بھی جائیں تو لفظ کی آواز کے ٹکڑوں کی مدد سے انہیں یا داشت میں واپس لایا جاسکتا ہے۔ اس کے لئے بچوں کو املا بول کر الفاظ کو آواز کی مدد سے لکھنے کی مشق کروانے سے ان کو یہ مہارت بہتر طور پر حاصل ہوسکتی ہے۔
ان چند ایک استاذانہ جٹکلوں کو بیان کرنے کا اصل مقصد اس بت کی وضاحت کرنا بھی تھا کہ یہ چند ایک کام ایسے ہیں جو بنیادی اہمیت کے حال ہونے کے باوجود سب کچھ نہیں۔ لیکن ہم یا تو ان بنیادی کاموں کو بھی پوری طرح کرنے کی قدرت نہیں رکھتے اور یا پھر ہم انہی چند ایک کاموں کو سب کچھ مانتے ہوئے، صرف انہی کو انجام دینے میں اپنی تمام تر توانائیاں صرف کرکے یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم نے اپنا فریضہ ادا کر دیا  ہے، اب دوسروں کا فرض ہے کہ وہ ساتھ ساتھ ہمارا بوجھ بھی اٹھائیں۔
جب بچے لکھنا سیکھ جاتے ہیں تو کوشش کی جاتی ہے کہ اب وہ اپنے ذہن میں آنے والے خیالات کو ایک ترتیب اور سلیقے سے لکھ کر دکھا سکیں۔ اس ضمن میں ان کو مضمون نویسی کی مشقیں کروائی جاتی ہیں ۔ چونکہ بچوں کو اپنے ذہن میں آنے والے خیالات کو نوٹ کرنے کی تربیت نہیں دی گئی ہوتی اور اگر سی بچے میں یہ صلاحیت فطرتاً موجود ہوتی بھی ہے تو اس کو اپنے خیالات کو منظم انداز اور ایک ترتیب سے پیش کرنے کا سلیقہ تعلیم نہ ہونے کے سبب وہ سکڑ اور سمٹ کر اس صلاحیت سے عملاً کنارہ کش ہو  جاتے  ہیں۔
رہ گئی بات مقابلہ مضمون نویسی میں حصہ لینے کی تو اس کا حل بچوں نے یہ تلاش کر لیا ہے کہ وہ چند گھسے پٹے مضامین رٹ کر امتحان میں اتنے نمبر لینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں کہ عزتِ اساتذہ بھی رہ جاتی ہے اور اُن کا کام بھی ہو جاتا ہے لیکن اسل مزہ تو اس وقت آتا ہے جب ایک کالج یا یونیورسٹی کا فارغ التحصیل طالب علم کسی فائل پر چند جملے لکھنے کی اہلیت کا مظاہرہ  کرنے میں ناکام ہو کر اس نظامِ تعلیم کو کوسنے بیٹھ جاتا ہے جس نے اس کو چودہ، سولہ سال تک امتحان تو پاس کروا دیئے لیکن اس قابل نہ بنا سکا کہ وہ خود سے چند جملے سوچ کر لکھ لیتا۔
خواندگی کی مانند لکھنے کی اہلیت رکھنے کا مطلب بھی محض کاغذ پر پنے ہاتھ سے کچھ تحریر کر دینا ہی لیا جانے کا انجام ہے کہ آج  شاذ و نادر ہی ایسے لوگ سامنے آتے ہیں جو خود اپنے ذہن میں آنے والے خیالات کو تحریر کا جامہ پہنا سکتے ہوں۔ حالانکہ بات فقط اتنی سی ہے کہ لکھنے کی اہلیت کا اصل مفہوم ہی یہ ہے کہ انسان اپنے ذہن میں آنے والے خیالات اور افکار کو صفحہ قرطاس کی زینت بنا سکتا ہو۔ یعنی کسی موضوع پر غور کرنے کے نتیجے میں جو بات اس کے ذہن میں آئے وہ اُس بات کو اس طرح سے بیان کرسکتا ہو کہ اُس تحریر کو پڑھنے والے کا ذہن بھی اس بات کا ادراک کرلے۔ اس بات کا تجزیہ کیا جائے تو پہلی بات یہ سامنے آتی ہے کہ اساتذہ کرام کو اپنے شاگردوں کے ذہن کو اتنا زرخیز بنانا ہوتا ہے کہ اُن کے ذہن کی زمین افار و خیالات کی افزائش کے قابل ہو جائے۔ جب ذہن میں خیالات کی افزائش کا  آغاز ہوتا ہے تو اُن خیالات کی حیثیت خود رد پھولوں کی سی ہوتی ہے۔ قاابل اساتذہ اپنے شاگردوں کو ان افکار میں سے انتخاب کا سلیقہ سکھاتے ہیں اور منتخب خیالات کو ایک ترتیب سے بیان کرنے کا فن تعلیم کرتے ہیں۔ اب یہ بیان تحریر کی صورت میں ہوتا ہے یا تقریر کی، یہ بات موقع محل اور شاگرد کی افتاد پر منحصر  ہوتا ہے۔
تقریر کرنا یا لوگوں کے سامنے اپنی بات دلنشین پیرائے میں بیان کرنے کی اہلیت بھی مشق کی متقاضی ہوتی ہے۔ ہماری درس گاہوں میں یوں تو اس بات کا کافی اہتمام کیا جاتا ہے کہ بچوں کو اپنی بات بیان کرنے کی مشق بہم پہنچائی جائے۔ اسمبلی میں تلاوت و ترانے، جماعت میں سبق کو باری باری پڑھانے اور سال میں ایک دو مواقع پر تقریری مقابلے منعقد کروانا وغیرہ بچوں کی اس ضرورت کے پیشِ نظر کیا جاتا ہے لیکن دیکھنے میں یہ آتا ہے کہ ان مواقع سے زیادہ تر وہ بچے ہی استفادہ کرتے ہیں جن میں اس بات کا فطری رحجان ہوتا ہے کہ وہ اپنی ذات کو نمایاں کریں۔ لیکن وہ بچے جو کس قدر شرمیلے ہوتے ہیں وہ اکثر و بیشتر نظر انداز ہو جاتے ہیں، خواہ وہ کتنے ہی قابل کیوں نہ ہوں۔
حالانکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ اساتذہ کرام اُن بچوں کو زیادہ توجہ دیں اور ان کو اپنے شرمیلے پن پر قابو پانے میں مدد دیں۔ اس بات کو سب ہی جانتے ہیں کہ کوئی آدمی تقریر کرنے سٹیج پر آتا ہے تو  وہ گھبراہٹ محسوس کرتا ہے۔ آغازِ تقریر میں گھبراہٹ محسوس کرنے کی بنیادی طور پر دو وجوہات ہوتی ہیں۔پہلی تو یہ کہ آدمی جس موضوع پر بات کرنا چاہتا ہے اُس کو اُس موضوع پہ گرفت حاصل نہیں ہے جس پر وہ بات کرنا چاہتا ہے۔ موضوع کی بابت نا کافی معلومات ہونا یا اس موضوع جس پر وہ بات کرنا چاہتا ہے۔ موضوع کی بابت نا کافی معلومات ہونا یا اس موضوع کی بابت اپنے خیالات کو مناسب ترتیب نہ دے سکنا، یا اس قسم کی دیگر باتیں موضوع پہ گرفت نہ ہونے کی دلیل ہوا کرتی ہیں۔ دوسری وجہ جو بہت ہی عام ہے وہ یہ کہ مقرر لوگوں کی توجہ کو اپنی طرف مبذول پا کر ، اُن کی توجہ کی لہروں کو جذب نہیں کر پاتا اور اپنی توجہ کو موضوع سخن پر قائم رکھنے میں ناکام ہوکر گھبراہٹ کا شکار جاتا ہے۔ اس صورت حال کا واحد علاج یہی ہے کہ اساتذہ کرام اپنے تلامذہ کو یکسو ہوکر اپنی توجہ ایک ہی نکتے پر مرکوز رکھنا سکھائیں۔ جب کوئی آدمی یکسوئی حاصل کر لیتا ہے تو اُس کو اپنے خیالات کو ایک نکتے پر مرکوز رکھنے، انہیں مناسب انداز میں ترتیب دینے اور دوسروں کی توجہ کی لہروں کو نظر انداز کرنے میں دشواری نہیں ہوتی اور وہ اپنی بات سہولت اور آسانی سے بیان کرنے پر قادر ہو جاتا ہے۔
خلاصہ یہ ہوا کہ اگر تعلیم کا مقصد محض خواندگی ہے تو ہم خیر سے اس کام میں پوری طرح سے کامیاب ہیں کیونکہ دس تا سولہ سترہ سال بعد ہر کوئی کتاب پڑھ بھی سکتا ہے اور خوشخط یا  بد خط اردو اور انگریزی لکھ بھی لیتا ہی ہے۔ لیکن اگر اس کا مطلب حصولِ علم اور اس علم کا تقریر و تحریر کے ذریعے اظہار ہے، تو ہم کامیابی کی منزل سے ابھی کوسوں دور ہیں اور ابھی ہمیں اس جہت میں بہت کچھ کرنا باقی ہے۔

اس ضمن میں یہ بات بہت ہی غور طلب ہے کہ اگر محض خواندگی کے مراحل ہم دس بارہ سالوں میں عبور کرتے ہیں تو مزید پانچ یا چھ سال کس مد میں صرف کرتے ہیں؟ اگر یہ مان لیا جائے کہ میٹرک تک بچوں کو لکھنا اور پڑھنا سکھایا جاتا ہے اور اس کے بعد انہیں کسی ہنر، فن یا علم میں طاق کرنے میں پانچ چھ سال مزید لگ جاتے ہیں۔ کہنے کی حد تک تو یہ بات بہت ہی احسن اور صائب لگتی ہے لیکن فی الواقع  اور عملاً جو صورتحال ہم دیکھتے ہیں وہ تو اس کے بالکل ہی متضاد ہے۔ اصل بات تو یہ ہے کہ ان مزید پانچ چھ سالوں میں بھی ہم اپنے تلامذہ کو محض خواندگی ہی کی مزید مشق         کروانے میں لگے رہتے ہیں۔

نئی نسل

نئی نسل
دنیا میں پیدا ہونے والا ہر بچہ جہاں خود ایک طرف نئی نسل کا رکن بنتا ہے وہیں دوسری طرف وہ اپنے ماں باپ  کو نئی نسل کی صف سے نکال کر پرانی نسل کی قطار میں کھڑا کر دیتا ہے۔ ماں باپ اپنے بچے کو خود سے بہتر بنانا چاہتے ہیں اور اگر وہ ایسا نہیں بھی کر پاتے تو یہ خواہش ضرور رکھتے ہیں کہ اُن کا بچہ زندگی میں ان سے بہتر مقام تک نہیں پہنچتا تو کم از کم کامیابی کی اس منزل تک تو ضرور پہنچ جائے جہاں وہ خود کو پاتے ہیں۔ اب یہ بتانا تو دشوار ہے کہ فطرت ان کی اس خواہش کے پیشِ نظر اُن کے دل میں اپنی اولاد کے لئے پیا بھر دیتی ہے یا پھر اپنی اولاد کے پیار کے ہاتھوں  مجبور ہوکر وہ ایسی خواہش کرتے ہیں۔ بہر حال اس بحث سے قطع نظر کہ ممتا کے ہاتھوں مجبور ہوکر وہ ایسی خواہش پیدا ہوتی ہے یا اولاد کی بہتری کی خواہش  ممتا کو جنم دیتی ہے، یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ اولاد کے حوالے سے ماں باپ کی ہر خواہش اپنی اولاد کی بہتری کے لئے ہی ہوتی ہے۔ یہی وہ جذبہ ہے جس کے ہاتھوں ماں باپ پہلے روز سے ہی بچے کی دیکھ بھال، نگہداشت، پرداخت اور تربیت میں جُت جاتے ہیں۔
اس تربیت کا انداز ہر ماں باپ کی اپنی ذہنی سکت، علمیت، قابلیت اور اس معاشرتی رتبے اور مقام کا آئینہ دار ہوتا ہے جو انہوں نے خود اپنی زندگی میں بنایا یا حاصل کیا ہوتا ہے۔غریب آدمی اپنے بچے کو صاحب لوگوں کی عزت کرنے کا درس ہی دیتا ہے اور امیر لوگ اپنے بچوں کو غریبوں کو ایک فاصلے پر رکھنے کو اسی لئے کہتے ہیں کہ ہر دو اپنے بچوں کو کسی بھی اسی صورتِ حال سے بچانا چاہتے ہیں جو ان کے لئے پریشانی یا شرمندگی کا موجب ہو۔ اسی طرح ایک غیر تعلیم یافتہ باپ اپنے بچے کو جو کچھ سکھاتا ہے وہ اس سے بالکل مختلف ہوتا ہے جو تعلیم یافتہ والدین اپنے بچے کو تعلیم کرتے ہیں۔ بچوں کو جیسے کپڑے اور لباس اس کے و الدین پہناتے ہیں وہی ان کا پہناوا بن جاتے ہیں۔ جو کچھ ماں باپ کھانے کی ترغیب دیتے ہیں وہی کچھ بچے کھاتے اور پیتے ہیں۔ جو خوراک چینی اور جاپانی والدین اپنے بچوں کو مہیا کرتے ہیں ہمارے بچے اس کے لئے ضد کریں تو والدین اُن کی ذہنی صحت کے حوالے سے متردّد ہو جائیں۔ اسی طرح جہاں شہری علاقوں کے بچوں کو طہارت کے لئے پانی کے استعمال کی عادت ڈالی جاتی ہے وہاں دیہاتوں میں اس کے بغیر ہی گزارا کرنا سکھا دیا جاتا ہے۔
جب بچے اسکول جانے کے قابل ہو جاتے ہیں تو ماں باپ انہیں لکھنا پڑھنا سکھانے کے لئے مدرسوں اور اسکولوں میں داخل کروا دیتے ہیں۔ اب یہاں سے بچوں کی زندگی میں اساتذہ کا عمل دخل آغاز ہو جاتا ہے۔ بچہ جب پہلے دن سکول جاتا ہے تو وہ اپنے والدین کی دی ہوئی تربیت کے زیرِ اثر سیکھی ہوئی باتوں کو اپنے ساتھ لے کر جاتا ہے۔ وہاں پہ اساتذہ اُس کی اچھی باتوں کی تعریف اور بُری باتوں کی تنقیص کرکے اُس کو اِس بات پر مجبور کرتے ہیں کہ وہ گھر سے سیکھ کر آنے والی باتوں کی بجائے اُن کی تعلیم کردہ باتوں کو اپنا لے۔ بچے کونت نئے دوست بنانے کا موقع بھی نہیں ملتا ہے اور اِس طرح اُس کی زندگی میں اثر پذیر ہونے والے افراد کا ایک نیا دریچہ وا ہو جاتا ہے۔ اب وہ اپنے معاملات میں اپنے دوستوں سے مشورے کرتا اور ان سے بہت کچھ سیکھتا ہے۔ اگر والدین اور اساتذہ کی تعلیم زیادہ متاثر کن نہ ہو تو وہ اپنے دوستوں کی صحبت میں جو کچھ سیکھتا ہے اس کے اثرات اس کی شخصیت میں زیادہ جذب ہوتے چلے جاتے ہیں۔ یہ اثرات اچھے ہوتے ہیں یا بُرے، اس بات کا فیصلے کرنے کے لئے بچے کا شعور کافی نہیں ہوسکتا اس لئے یہ ذمہ داری والدین اور اساتذہ کرام، دونوں کی بنتی ہے کہ بچوں کی اچھے دوستوں کے انتخاب میں راہنمائی کریں ورنہ بڑے ہوکر تو بچے اپنے بُرے اور بھلے کا فیصلہ کر ہی لیتے ہیں۔
ہمارے یہاں سکولوں اور تعلیمی اداروں کی بنیادی طور پر دو قسمیں ہیں۔ دینی مدرسے اور سکول۔سکول بھی ادارو اور انگلش میڈیم کی دو اقسام کے ہوتے ہیں۔ مڈل تک کم و بیش نو دس سال تک یہی سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ سکولوں میں جانے والے بچے اس کے بعد آرٹس، پری انجنیئرنگ یا میڈیکل میں سے کسی ایک شعبے کا انتخاب کرنے کے بعد میٹرک کرتے ہیں۔ اس کے بعد کچھ بچے کالجوں کا رخ کرتے ہیں اور باقی کو معاشرہ اپنے اندر جذب کرلیتا ہے۔ کالجوں کا ماحول سکولوں کی نسبت کافی مختلف ہوتا ہے یہاں آکر بچے ایک طرح کی آزادی محسوس کرنے کے ساتھ ساتھ ذمہ داری کا احساس کرنا سیکھتے ہیں۔ میٹرک کے بعد گریجویشن تک ، چار سال صرف ہوا کرتے تھے اب نئی ہدایات کے تحت وہ چھ کر دئیے گئے ہیں، بچہ مزید باشعور ہو جاتا ہے اب اکثر بچے روزگار کی تلاش کی طرف مائل ہونے پر مجبور کئے جاتے ہیں یا وہ ہو جاتے ہیں۔ جن بچوں کو دل پسند  نوکری یا روزگار نہیں ملتا وہ مزید تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ محض اس لئے کرتے ہیں کہ بہتر ڈگری کے حصول کے بعد اُن کو روزگار کے بہتر مواقع مل سکیں۔
روزگار کے حصول کے بعد بچوں کا سب سے بڑا مسئلہ ان کی شادی بیاہ کا ہوتا ہے اور شادی کے بعد بچے خود ماں باپ بن کر اپنے بچوں کی دیکھ بھال کرنے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ اس طرح دیکھا جائے تویوں لگتا ہے ہ سب ٹھیک ہی ہے لیکن غور و فکر کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ سب اتنا بھی ٹھیک نہیں ہے کہ ہم  بیٹھ کر چین کی بانسری ہی بجانا شروع کردیں۔ یعنی ابھی بہت کچھ ہوسکتا ہے اور بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ اس بہت کچھ میں اس بات کا جائزہ لینا بھی شام ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کے لئے جو کچھ کرنا چاہتے ہیں اُس میں وہ خود ہماری کیا اور کتنی مدد کرسکتے ہیں؟
اس بات کو سمجھنے سے پہلے اگر ہم یہ طے کرلیں کہ تعلیمی نظام کا چوتھا رکن ہونے کے ناتے ہماری نئی نسل کی بھی کچھ ذمہ داریاں بنتی ہیں۔ ایسا ہر گز نہیں ہے کہ فرائض اور تو سب کی سب حکومت، والدین اور اساتذہ کرام کے سر ڈال دی جائیں اور تمام حقوق بشمول حقِ تنقید اور احتساب اُن کے حوالے کر دیا جائے جو خود اپنی تربیت کروانے پر بھی رضامند نہ ہوں ۔ ہمارے نظامِ تعلیم کی دگر گو حالت کی ایک بڑی وجہ یہی تو ہے کہ نئی نسل اپنے فرائض سے غفلت اور کوتاہی کو بھی اپنا حق سمجھتے ہوئے ہر اس کام سے پلو تہی کی مرتکب ہو رہی ہے جس میں خود ان کی اپنی بہتری اور بھلائی مضمر ہوتی ہے۔ اب کتاب نہ پڑھنا ، اس کو سمجھنے کی کوشش ہی نہ کرنا، سمجھ کر اس پر مثبت انداز میں عمل نہ کرنا اور سمجھنا کہ تعلیم ان کو فائدہ نہیں پہنچا رہی ، کیا یہ وہی صورت حال نہیں کہ ایک مریض ڈاکٹر کے پاس چلا تو جائے لیکن نہ تو اس کے مشورے پر عمل کرے، نہ اس کی تجویز کردہ دوا کھائے اور نہ ہی ان باتوں سے پرہیز کرے جن سے ڈاکٹر نے منع کیا تو ایسے مریض کی شفا یا بی کا کتنا امکان ہوسکتا ہے۔ ان سب باتوں کے بعد شکوہ سنج ہوکر یہ کہنا کہ اُن کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب غلط ہے، کس حد تک درست موقف ہوسکتا ہے؟
درحقیقت نئی نسل کا یہ مسئلہ اصل میں ویسا نہیں ہے جیسا کہ ہمارے یہاں در آنے والی زرد صحافت اس کو بنا کر پیش کرتی ہے۔ ہماری نئی نسل کو یہ بنیادی بات سمجھنا چاہئے کہ کسی عالم کے علم کی بابت کسی بے علم کی رائے کوئی وقعت نہیں رکھتی۔ ایک نہ جاننے والا کسی جانکاری رکھنے والے کی بات کو سمجھنے میں دشواری تو محسوس کرتا ہی ہے لیکن اس دشواری کے سبب وہ علم رکھنے والے کے علم ہی کو رد کر دے، یہ جہالت ہی کا کارنامہ ہوسکتا ہے۔ والدین جب بچوں سے یہ دریافت کرتے ہیں کہ تمہارا فلاں استاذ کیسا پڑھاتا ہے اور بچہ ٹھنک کر فیصلہ دے دیتا ہے کہ وہ تو ٹھی طرح نہیں پڑھاتے تو والدین کو چاہئے کہ وہ ایک طرف تو  اپنے بچے کو یہ سمجھائیں کہ اچھا بچہ تو وہی ہوتا ہے جو خود سیکھنے کی طلب رکھتا ہے اور بُری طرح پڑھانے والوں سے بھی سیکھ کر دکھاتا ہے اور دوسری طرف خود اس بات کی کھوج لگائیں کہ اصل معاملہ کیا ہے اور جب یہ طے ہو جائے کہ مذکورہ استاذ بچوں کو پڑھانے کا واقعتاً اہل نہیں ہے تو انہیں یہ کوشش کرنی چاہئے کہ یا تو وہ استاذ خود کو سدھار لیں اور یا پھر وہ اپنے بچے کو اُس کی تحویل سے ہٹا دیں۔
ادھر نئی نسل سمجھتی ہے کہ والدین اور اساتذہ کرام ان کے لئے کچھ نہیں کر رہے، اُن کو اُن کے مسائل کو کوئی شعور ہی نہیں اور اُدھر والدین اور اساتذہ کرام دونوں شاکی ہیں کہ نئی نسل اُن کی بات پر دھیان نہیں دیتی، اُن کی عزت نہیں کرتی، اُن کی بات نہیں مانتی، جو کچھ ان کو کرنے کو کہا جائے وہ ویسا بالکل بھی نہیں کرتے۔ یہ بہت غور طلب بات ہے کہ ایسا کیوں ہے؟ اگر نئی نسل کے نکتہ نظر کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے حقوق کے بارے میں ہل من مزید کا نعرہ تو بلند کرتے ہیں لیکن انہیں انکے فرائض کی بروقت اور بھر پور ادائیگی کی طرف متوجہ کرنے میں والدین اور اساتذہ دونوں ہی ناکام ہے ہیں۔ اسی طرح اگر والدین اور اساتذہ کے نکتہ نظر کا تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جو وہ چاہتے ہیں اس کی بنیاد خواہش اقتدار کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ وہ اپنی نئی نسل کی تربیت میں ایثار اور قربانی کے بجائے محض اپنی بڑائی اور بزرگی کے زعم میں اپنی احکامات کی تکمیل تو چاہتے ہیں لیکن بچوں کو اُن احکامات میں مستور حکمت کو سمجھنے کا شعور بیدار نہیں کرتے لہٰذہ بچے اس رویے کا مظاہرہ کر بیٹھتے ہیں جو مغربی  معاشرے میں جنریشن گیپ کہلایا۔ حالانکہ وہ خود اس صورت حال کو بچوں اور بڑوں کے مابین Lack of Communication   یعنی رابطے کا فقدان مانتے ہیں اور اس بات پر اصرار کرتے ہیں کے دونوں کو آپس میں رابطہ بھی رکھنا چاہئے اور ایک دوسرے کی بات سمجھنے کی کوشش  بھی کرنی چاہئے۔سیدھی سی بات ہے کہ اگر والدین اور اساتذہ اپنے بچوں کو اپنے نکتہء نظر کی وضاحت منطقی انداز اور عقلی دلائل کے ساتھ کرنے کی زحمت گوارا کرلیں تو کوئی وجہ نہیں کہ نئی نسل قائل  ہوکر ان کا کہا نہ مانے۔ اس بات کا دھیان رکھنے کی ضرورت ہے کہ بچے ماں باپ یا اساتذہ کرام کی بات نہ ماننے کے مرتکب کب ہوتے ہیں اور کیا اس وقت والدین یا اساتذہ اُن کے ساتھ کھلے ذہن کے ساتھ بات کرنے پر آمادہ ہوتے ہیں یا نہیں۔ اور اگر بچے کبھی
اپنے والدین کے کسی فیصلے یا طرزِ عمل پر تنقید کر بیٹھتے ہیں تو کیا وہ اس تنقید کا خیر مقدم کرتے ہوئے ان سے بات کرکے اپنے نکتہ نظر کی وضاحت کرتے اور اُن کو اعتماد میں لیتے ہیں یا اپنی سہولت کے لئے اپنے حق برتری کا استعمال کرتے ہوئے ان کو ڈپٹ کر چپ کروا دینے کی راہ کا انتخاب کرتے ہیں۔ اگر والدین اور اساتذہ اتنی سکت بھی نہیں رکھتے کہ ایک بچے کو اپنا نکتہ نظر سمجھا کر اُس کو اپنا ہم نو بنا سکیں تو بات نہ منوا  سکنے کا الزام تو انہی کے سر رہا نہ کہ اس کا قصور دار بچے کو ٹھہر کر اس کو قابلِ گردن زدنی قرار دے دیا جائے۔

داناوں کا کہنا ہے کہ اگر بچے بڑوں کی بات نہیں مانتے اور بڑے کسی بھی طور ان کو اپنی بات ماننے پر قائل نہ کر سکیں تو بڑوں کو چاہئے کہ وہ ان کی بات مان لیں خاص طور پر جب کہ معاملہ خود بچوں کی اپنی زندگی کو ہو۔ کیونکہ اس کا سیدھا اور صاف مطلب یہی بنتا ہے کہ اب بچہ بڑا ہوگیا ے کہ وہ خود اپنے بُرے بھلے کو اپنے بڑوں سے بہتر سمجھنے لگا ہے اور یا پھر یہ کہ اسے اپنے بڑوں پر وہ اعتماد نہیں رہا جس کے زیرِ اثر وہ ان کی بات مان سکتا تھا۔ اِن میں سے جو بھی صورت ہو اپنی اور بچے کی خاطر عافیت اسی میں ہے کہ اس کی بات مان لی جائے۔ اگر وقت نے بچے کی بات درست ثابت کر دی تو بہت خوب ورنہ اس طرح بچہ عملی طور پر ناکامی سے دو چار ہوکر جو سبق سیکھے گا وہ بالآخر اسی کی کام آئے گا اور بڑے اس کی نگاہ میں مزید محترم ہو جائیں گے کیونکہ اس طرح اس پر یہ ثابت ہو جائے گا کہ وہ کچھ غلط نہ کہتے تھے۔

Featured Post

Donald Trump Signs Executive Order to Assure Security of Qatar – Full Details

  Donald Trump Signs Executive Order to Assure Security of Qatar – Full Details In late September 2025, former U.S. President Donald Trump ...