Thursday, 28 December 2017

تسلیم و رضا

تسلیم  و رضا
بحیثیت مسلم تسلیم و رضا ہماری خو ہونی چاہئے۔ اس بات کو اصلاً تو سب ہی مانتے ہیں لیکن جب عمل  کا وقت آتا ہے تو باہمی اختلافات کو گروہ بندیوں اور تفرقہ بازی تک پہنچا دینے سے شاید ہی کبھی کوئی کترایا ہو۔ حالانکہ اگر صرف اتنی سی ایک بات کسی طور ہمارے پلے بندھ جائے کہ حقیقت صرف ایک ہی ہوا کرتی ہے، جب حقیقت ایک ہی ہو تو اُس میں اختلاف کیسے ممکن ہوسکتا ہے؟ حقیقت شناسی کی بجائے ہم اپنے حقِ اختلافِ رائے کے استعمال پر اصرار کرنے کی ایسی بُری اور مضر لت کا شکار ہیں کہ آج اختلافِ رائے کے نام پر افراد سے لے کر اقوام تک سب ہی تفرقوں اور گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں۔
اختلاف ہمارے اندازِ نظر کا ہوسکتا ہے، ہمارے طرزِ فکر کا ہو سکتا ہے یا پھر ہماری فہم کے فرق کا ہوسکتا ہے۔ حقائق میں نہ کبھی کوئی اختلاف ہوا ہے اور ہی  کبھی کوئی اختلاف ہوسکتا ہے۔ اس کے لئے جس صلاحیت کی آبیاری کرنے کی ضرورت آج کسی بھی کام سے زیادہ ہوسکتی ہے، وہ ہے حقیقت شناسی کا ذوق۔ جب کسی فرد میں حقیقت شناسی کا ذوق پیدا ہو جاتا ہے تو اس کو دوسرے کا زاویہ نظر سمجھ بھی آ رہا ہوتا ہے اور وہ اُس فرق کو بھی دیکھ رہا ہوتا ہے جو اختلاف کا باعث ہوتا ہے۔
حقیقت شناسی کا ذوق پیدا کرنے کے لئے جس بات کی اہمیت سب سے زیادہ بنتی ہے وہ ہے غیر جانبدارانہ اندازِ نظر۔ کسی بھی معاملہ کی درست تفہیم تبھی ممکن ہوسکتی ہے جب اس معاملے کا جائزہ غیر جانبداری سے لیا جائے گا۔ کسی معاملے میں جس قدر جانبداری ہوگی معاملہ درست طور پر سمجھنا اسی قدر دشوار رہے گا۔ انسان کسی بھی معاملے کو یا تو جانبدار ہوکر سنتا اور سمجھتا ہے اور یا پھر غیر جانبدار ہوکر۔ جب انسان کسی معاملے کو اپنی ذات کے حوالے سے دیکھتا ہے تو وہ جانبدار ہوکر اس کو سمجھنا چاہتا ہے۔ تعصب اور ذاتی پسند و ناپسند اسی وجہ سے بنتے ہیں کہ انسان اُس معاملے کو غیر جانبداری سے نہیں دیکھ رہا ہوتا۔ اسی جانبدارانہ سوچ کو ہم ذاتی مفادات سے تعبیر کرتے ہیں۔ یہ اقربا پروری بھی اسی جانبدارانہ سوچ کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے۔ میرٹ کا مطلب غیر جانبدار ہو جاتا ہی بنتا ہے۔ جب تک کسی معاشرے میں غیر جانبدارانہ سوچ کی طرزیں  عام نہیں ہو جاتیں اس معاشرے میں اقربا پروری، ذاتی مفادات اور رشوت کی لعنت پھٹکار بن کر برستی رہتی ہے اور جس معاشرے یا افراد کے گروہ میں غیر جانبدار انداز نظر عام ہو جاتا ہے وہاں میرٹ کا بول بلا تو ہوتا ہی ہے، تفرقی بازی اور گروہی اختلافات بھی ختم ہوکر رہ جاتے ہیں۔
بحث و مباحثہ اور مناظرے سب اسی جانبدارانہ انداز نظر کے شاخ سانے ہیں۔ کیونکہ ہر آدمی اپنی بات کو درست ثابت کرنے کے جوش میں ہوش کا دامن تار تار کر رہا ہوتا ہے۔ اگر  گلیلیو نے کلیسا سے بحث نہیں کی تھ تو صرف اسی لئے کہ اس پر یہ حقیقت عیاں تھی کہ کسی حقیقت کو اپنے ثبوت کے لئے کسی چرب زبان کے لفظوں اور حرفوں کے کھیل کی کوئی ضرورت نہیں ہو کرتی۔ حقیقت میں اتنا تو دم ہوتا ہی ہے کہ وہ خود کو منوا سکتی ۔ اگر کسی حقیقت میں اتنا دم نہیں ہے تو پھر یا تو وہ حقیقت نہیں ہے اور یا پھر شعورِ انسانی اس کو سمجھنے ک ابھی اہل ہی نہیں ہو سکا۔ ہر دو صورتوں میں مناظرے اور مباحثے کی بہر حال کوئی گنجائش نہیں بنتی۔ جب مناظرے اور مباحثے کے دروازے بند ہو جائیں گے تو آپس کے اختلافات خود بخود کم ہوتے  ہوتے ختم ہوکر رہ جائیں گے۔ جب آپس کے جھگڑے کم ہوں گے تو ذہن تحقیق اور ریسرچ کی طرف متوجہ ہوں گے۔ اب یہ بات بڑو کی بجائے بچوں کو ہی سمجھا لی جائے تو شاید ہماری آنے والی نسلوں کو اغیار کے چنگل سے نکلنے کی راہ اپنانی آسان ہو جائے۔
عجیب بات تو یہ ہے کہ سائنسی علوم کی تحقیق اور ریسرچ کی اولین شرط ہی یہ ہوتی ہے کہ آپ اپنی پسند کے نتائج پر اصرار نہیں کریں گے اور جو آپ کے علم اور  مشاہدے میں آئے گا اُس کو نہایت غیرجانبداری سے نوٹ کرکے اس کو دوسروں کے سامنے پیش کر دیں گے اور اس بات کو سائنٹفک اپروچ کہ کر اس کی وکالت اور پرچار بھی کیا جاتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود کہ آج پوری دنیا میں سائنس کا بول بالا اور چلن تو ہے لیکن اس سائنٹفک اپروچ  کی کہیں کوئی شنوائی نہیں ہے۔ اس غیر جانبدارانہ انداز نظر کو جب تک لیباریڑی کی محدود فضا سے نکال کر اس کو اپنی پوری زندگی پر محیط نہیں کر دیا جائے گا انسان کو حقیقی معنوں میں گلوبل ولج کا باسی بننے میں دشواریاں پیش آتی رہیں گی۔
اگر کوئی وقم دنیا میں ممتاز و منفرد مقام حاصل کرنے کی حقیقی معنوں میں خواہش مند ہے تو اُس کو اپنے اساتذہ کرام سے یہ فرمائش ضرور کرنا ہوگی کہ وہ اپنے شاگردوں میں حقیقت شناسی کا ذوق ابھارنے میں اپنا کردار  ادا کرنے میں کوئی کوتاہی نہ ہونے دیں۔ اس ضمن میں معاشرے کے ہر فرد کو خواہ وہ والدین ہوں، اساتذہ ہوں، طلباء ہوں یا کوئی سرکاری اور غیر سرکاری اہل کار سب کو اپنے اپنے اندر غیر جانبدار اندازِ فکر و نظر پید ا کرنے کے لئے کو شان ہونا ہی ہوگا۔
غیر جانبدار اندازِ فکر و نظر کوئی ایسی چیز نہیں جو ہمارے لئے انوکھی یا اجنبی ہو۔ ہم عدالت کے جج کو یہی کام عملاً کرتے دیکھتے ہیں۔ وہ دونوں فریقوں کا مطمع  نظر الگ الگ سن کر غیر جانبداری سے فیصلہ کر دیتا ہے۔ نظامِ عدل کی پوری عمارت اسی غیر جانبداری کی بنیاد پر ہی تو کھڑی ہوتی ہے۔ اگر کسی فریق کو یہ شبہ بھی ہو جائے کہ ج غیر جانبدار نہیں رہا تو قانون   اس کو اجازت دیتا ہے کہ وہ اپنا کیس کسی دوسرے جج کےپاس لے جائے۔ یہ جو ہمارے یہاں نظامِ عدل کی بابت تحفظات کا اظہار کیا جاتا ہے وہ اسی لئے ہوتا ہے کہ عدلیہ کی جانب سے غیر جانبداری کے مظاہرے میں کمی رہ جاتی ہے۔ اگر کسی ملک کی عدلیہ غیر جانبداری کا اظہار کرنے میں کوتاہی نہیں ہونے دیتی تو اُس ملک کا پورا نظامِ عدل انتہائی موقر اور معتبر مانا جاتا ہے۔
جب سکولوں اور کالجوں میں اساتذہ کرام اپنے شاگردوں کے غیر جانبداری کا درس نہیں دیتے تو وہ بچے بڑے ہوکر عدالت میں بیٹھ کر اگر غیر جانبداری کا  مظاہرہ کرنے میں کبھی کبھی ناکام ہو جاتے ہیں تو اس میں اُن کا انتا زیادہ قصور نہیں مانا جاسکتا۔ معاشرے میں عدل و انصاف کی حکمرانی کا تقاضا ہر ذی شعور انسان کرتا ہے۔ اس کا ا کے سواء اور کوئی حل ہو ہی نہیں سکتا کہ ہم غیر جانبدار ہوکر سوچنے کی عادت کو عام کرنے میں اپنا اپنا کردار ادا کریں۔ لوگوں  میں اس بات شعور پیدا کریں کہ غیر جانبدار طرزِ فکر سے ہی ہمارے معاشرتی اقدار میں قانون کا احترام بڑھے گا۔ لوگوں میں قانون سے استثنائیت اور اس سے بالاتر ہونے کا جو شوق روز افزوں ہوتا چلا جا رہا ہے اُس کو لگام دینے کا اگر کوئی ممکن  طریقہ ہے تو وہ یہی بنتا ہے کہ افراد معاشرہ غیر جانبدار طرز فکر کو خود اپنے اندر رائج کرنے کا تہیہ کرلیں۔ اگر معاشرے کا ایک فرد کسی قانون سے استثناء طلب کرتا ہے تو پھر پورا معاشرہ اُس بات کا بُرا مناتا ہے اور پھر وہ کچھ اور کرسکتا ہے یا نہیں کم از کم اس کے دل سے قانون کا احترام ضرور کم ہو جاتا ہے۔
بات قانون بنانے کی آجائے  تو غیر جانبدار طرزِ فکر کا حامل ہونا اور بھی ضروری ہو جاتا ہے۔ کیونکہ اگر قانون بنانے والوں نے قانون کو کسی خاص گروہ کے مفاد کے پیش نظر بنایا ہو تو اس کا احترام زیادہ دیر تک نہیں کروایا جاسکتا۔ المیہ تو یہ ہے کہ مذاہب عالم میں سے کسی بھی مذہب کی تعلیمات اس بات کی اجازت نہیں دیتی ہیں کہ انسان جانبدار سوچ کو اپنا کر زندگی کو محدود طرزوں میں بسر کرے۔ لیکن اس کے باوجود صورت حال کچھ یوں ہے کہ جس مذہب نے اس بات پر جتنا زیادہ اصرار کیا اور اپنی تعلیمات میں اس بات پہ جتنا زیادہ زور دیا اُسی مذہب کو ماننے والوں نے اتنا ہی اس بات کو کم سنا، اپنا یا اس بھی کم اور عمل اس سے بھی کم کیا۔ ملکی قانون  سازی، حکمرانی اور سیاست سب ہی شعبے اس صفت و صلاحیت کے بغیر وقتی اور انفرادی مفادات کا کھیل بن کر رہ جاتے ہیں۔ وقتی اور انفرادی مفادات کے کھیل کا احترام اتنی  ہی دیر ہوتا ہے جب تک بات لوگوں کی سمجھ میں نہ آئے اور جب لوگ اس بات کو سمجھ لیتے ہیں اور جان لیتے ہیں کہ یہ اُن سے متعلق بات نہیں ہے وہ اس کا احترام کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔
قوانین کا  احترام کرنے کی بات ہو یا  اپنی زندگی کو بہتر طور پر بسر کرنے اور گزارنے کی انسان اس ضمن میں حالات کا تذکرہ کئے بغیر نہیں رہ پاتا۔ معاشرتی ادارے ہوں یا افرادِ معاشرہ کی انفرادی زندگی کے حالات ہر دو کو مختلف ادوار اور حالات سے گزرنا ہی پڑتا ہے۔ افراد ان حالات کو اچھا یا بُرا کہتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ یہ انسانوں کے اعمال کے انعام یا  شامت کے طور پر سامنے آتے ہیں اور دوسرے  یہ کہ فطرت انسان کے اندر  پوشیدہ اور مستور صلاحیتوں کو سامنے لانے کے لئے، اُن کی شخصیت اور کردار کی مخفی گوشوں کو خود اُن پر آشکارا کرنے کے لئے انہیں اچھے اور بُرے حالات سے گزارتی ہے ۔ اچھے اور بُرے حالات کی بابت ایک سوچ یہ بھی ہے کہ بُرے حالات نہ ہوں تو اچھے کی قدر نہیں ہوسکتی اور ایک اندازِ فکر یہ بھی ہے درحقیقت حالات انسان کی شخصیت اور کردار کا اصل امتحان ہوتے ہیں۔ اچھے حالات میں تو ایک بُرا انسان بھی اچھے رویے کا مظاہرہ کر لیتا ہے لیکن اسل میں اچھا انسان وہی ہوتا ہے جو بُرے حالات میں بھی اچھے رویے کا مظاہرہ کر سکے۔ جس میں  صبر و رضا کا مادہ ہو وہی انسان حالات کی اچھائی اور برائی کی پرواہ کئے بغیر ان سے ہنسی خوشی گزرتا چلا جاتا ہے۔
صاحبانِ علم حضرات کا کہنا ہے کہ وہ لوگ جو صبر و رضا کے اصل مفہوم سے واقف ہونے کے بعد اس کے عامل بن جاتے ہیں وہ 'ابو الوقت' کہلاتے ہیں جبکہ ان صفات سے عاری لوگ ابن الوقتی سے آگے بڑھنے کی بات کو بھی ممکن نہیں مانتے، ان کو اپنانا اور  اِن پر کار بند رہنا تو بہت دور کی بات ٹھہرتی ہے۔ حالات کو اچھا بُرا ماننے کی حدوں سے گزرنے والے افراد کے ذہن میں اتنی قوت اور طاقت پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ خود اپنے حالات پیدا کرنے پر قدرت حاصل کر لیتے ہیں۔ عام آدمی کے نزدیک ایسی باتیں ایک چاشنی والے ادبی جملے سے شاید زیادہ نہ ہوں لیکن غیر جانبدارانہ اندازِ نظر رکھنے والا ذہن ان پر غور کرنے کے بعد اُس میکانزم کو دریافت کرسکتا ہے جس کو اپنانے کے بعد پا مردی اور استقامت سے حالات کا مقابلہ کرنے والے لوگ نا موافق  حالات کو بھی اپنے حق میں منقلب کرنے کی صلاحیت اور استعداد پیدا کرسکتے ہیں۔
جن لوگوں میں نا موافق حالات کو اپنے حق میں تبدیل کر لینے کی صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے وہ سب بھی تو اسی دنیا کے باشندے ہوتے ہیں۔ ہمارے اور آپ جیسے لوگ، فرد و بشر ہی ہوتے  ہیں۔ ایسے افراد کی تربیت حالات اور زمانہ خود کرتے ہیں۔ اب سوال یہ  ہے کہ کیا ہمارے نظامِ تعلیم میں کوئی ایسی گنجائش ہے کہ ہم ایسے افراد کی امید کر سکیں جو زمانے سے اپنی شرائط منوانے کی ہمت اور سکت رکھتے ہوں اور حالات کو اپنی مرضی کی نہج پر موڑنے کا شعور اور استعداد رکھتے ہوں ایسی درس گاہوں کی جہاں ایسے افراد تیار کئے جاسکتے ہوں جتنی ضرورت آج کے دور کو ہے شاید آج سے پہلے کبھی کسی اور دور میں نہ تھی۔ ایسی صلاحیتوں کے حامل افراد کو تیار کرنے میں جو مشکل درپیش ہے وہ یہی ہے کہ ہمارے پاس ایسے اساتذہ کرام نہیں ہیں جو ایسے افراد کی تیاری کا عظیم کام اپنے توانا کندھوں پر اٹھا سکتے ہوں اور اگر کہیں ایسے اساتذہ ہیں بھی تو ایسے افراد دستیاب نہیں ہو پاتے جو اپنی صلاحیتوں کو اس حد تک نکھارنے پر آمادہ ہوں۔ نہ سرف آمادہ ہوں بلکہ اس کے لئے جس کٹھن تربیت سے گزرنا پڑ سکتا ہے اُسکے لئے بھی آمادہ تیار ہوں۔ وہ مکمل خود سپردگی جو اس قسم کی تربیت کے لئے شرطِ اول ہوا کرتی وہ آج کے مادیت پرست ماحول میں دستیاب ہونا اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ اس کی ایک ہی صورت بن سکتی ہے کہ پہلے ہم اپنے نظام تعلیم کو ان خطوط پر استوار کرلیں جو بچوں اور طلباء کے ذہنوں سے اس مفادات کے حوالے سے سوچ کو اولیت دینے والے طرزِ فکر کی اصلاح کرسکتا ہو۔
جب ہماری ایک نسل ایسی طرزِ فکر کی حامل ہو جائے گی جس کے حامل افراد انفرادی سوچ، وقتی فائدے اور ذاتی مفادات سے اوپر اُٹھ کر اجتماعی سوچ رکھتے ہوں گے، دور اندیشی سے کام لینا جانتے ہوں گے اور ملکی اور قومی مفاد کو فوقیت دینے کا جذبہ رکھتے ہوں گے تو پھر یقیناً ایسے اساتذہ اور ایسے بچے وافر تعداد میں دستیاب ہوسکیں گے جو اپنے ذہن اور روح کی ایسی تربیت کے لئے خود کو مکمل طور پر وقف کر سکیں گے جس کے نتیجے میں وہ زمانے کی طنابیں اپنے ہاتھوں میں تھام سکیں گے۔ اقبال ایسے افراد کو مرد کامل کے نام سے ہم سب بہت پہلے متعارف کروا چکا ہے۔


کردار سازی

کردار سازی
علم و آگہی سے آراستہ ہونے کے بعد شخصیت میں جاذبیت تو ضرور پیدا ہو جاتی ہے لیکن بات کی تکمیل تب ہی ہوسکتی ہے جب فرد کا کردار ایسا ہو کہ وہ حاصل ہونے والے علم و عرفان کو صرف اور صرف تعمیر ہی کے لئے استعمال کرنے پر کمر بستہ رہے۔ اگر کوئی فرد  سیکھے ہوئے علم کا محدود طرزوں میں ہی استعمال ہوا۔ اور اگر کہیں فرد کی طرزِ فکر میں تخریب ہو تو وہ اپنے علم کو دوسروں کو نقصان پہنچا کر اپنا بھلا کرنے میں استعمال کرنے سے شاید ہی گریز کرسکے۔
انسان اپنی سیکھی ہوئی باتوں کو جس انداز میں اپنا تا اور اُن کو جس طرح سے عملی طور پر برتتا ہے وہ اُس کا کردار کہلاتی ہیں۔ کردار کی اصل بنیاد طرزِ فکر ہوتی ہے۔ ایک انسان کی جیسی طرزِ فکر ہوتی ہے ویسا ہی اُس کا کردار تشکیل پاتا ہے۔ اگر انسان کی طرزِ فکر اپنی ذات سے محبت ایک حد سے برھی ہوئی ہوگی یا اُس میں لالچ اور  حرص و ہوا ہوگی تو وہ علم سے آراستہ ہونے، خوشگوار اور جاذب نظر شخصیت رکھنے کے باوجود ایسے کام سرانجام دے بیٹھے گا جن پر خود اُس کا ضمیر  اس کو ملامت کرتا اور لوگ اس کو بُرا سمجھتے اور کہتے ہیں۔ اس کی مثال وہ ڈاکٹر ہے جو کسی مریض کا گردہ نکال کر بھیج  دے۔  اب کیا وہ طب کے علوم سے آراستہ نہیں، اُس نے کسی اچھے تعلیمی ادارے میں بہترین ماحول میں تعلیم نہیں پائی، وہ اپنی پڑھائی میں کمزور تھا یا اُس کی شخصیت میں کوئی کمی تھ۔ ایسا نہیں تھا۔ اُس کو سب کچھ و افر میسر تھا لیکن جس بات کی اپس کو تربیت نہیں دی گئی تھی ۔  وہ یہ تھی کہ اپنی طرزِ فکر کو اُس سانچے میں کیسے ڈھالنا ہے جس میں دور اندیشی ہو، دوسروں کا حق نہ مارنے کا عزم راسخ ہو، وہ لالچ سے اس لئے باز آچکا ہو کہ اُس کو لالچ کے ہاتھوں ہونے والے اصل نقصان کا مشاہدہ حاصل ہو۔ اسی طرح اُس انجنیئر میں کیا کمی رہ چکی ہوتی ہے جو کسی عمارت کی تعمیر میں استعمال والے ناقص سامان کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے کی بجائے اس میں حصہ دار بنا پسند کر لیتا ہے؟ اگر اُس کو اُس   کی تعلیم کے دوران اپنی طرزِ فکر کو قابو میں رکھنے کی تربیت دی گئی ہوتی، اُس میں ترغیب گیاہ کے خلاف ایک مدافعتی نظام پیدا کر دیا گیا ہوتا تو وہ ایسی کسی بھی کاروائی میں سانجھے داری کی جرات نہ کرتا جس کے نتیجے میں کوئی پُل بہہ جاتا، عمارت گر پڑتی یا سڑک اپنی عمر کے ابتدائی ایام میں ہی مٹ جاتی۔
ہمارے نظامِ تعلیم میں گناہ اور ثواب کی بابت تو بہت کچھ نہایت تفصیل سے  بتا دیا جاتا ہے لیکن نہیں بتایا جاتا تو یہ کہ اُس گناہ کی ترغیب سے عملاً کس طرح بچا جاتا ہے اور کس طرح بچنا چاہئے۔ اگر اساتذہ کرام اپنے تلامذہ کو یہ بات سمجھا سکتے کہ منفی خیال کا آنا اتنا بُرا نہیں جتنا اُس خیال کا شکار ہو کر اُس پر عمل پیرا ہو جاتا ہے اور یہ کہ کسی منفی سوچ اور غیر اخلاقی خیال کو اپنے ذہن میں جگہ بنانے سے کس طرح روکا جا سکتا ہے، تو یقیناً کوئی بھی شاگرد شیطان کی کسی بھی چال کو نا کام بنا سکنے پر پوری طرح قادر ہوسکتا ہے۔
اب صورتِ حال کچھ یوں ہے کہ کم ہی اساتذہ ایسے ہوں گے جن کو اس بات کا شعور ہے کہ ذہن میں آنے والے خیالات میں اچھے اور بُرے کی پہچان کس طرح کی جاتی ہے اور غلط اور بُرے خیالات میں  جڑ پکڑنے سے کس طرح روکا جاتا ہے۔ اگر طلباء کو اس فن میں طاق کر دیا جائے کہ وہ کس خیال کو نظر انداز کریں اور کس خیال پہ عمل پیرا ہو جائیں  تو شاید  ہی کبھی کوئی شاگرد کبھی اخلاق سے گری ہوئی، غیر شائستہ اور کسی مذ موم حرکت  کا مرتکب ہونا گوارا کرے۔
اس بات کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم کسی خیال کے ذہن میں جڑ پکڑنے کے عمل کو اچھی طرح سے جان لیں۔ جب انسان کے ذہن میں کوئی خیال آتا ہے تو دنیا کی کسی بھی دوسری چیز  کی مانند اُس کی بھی ایک عمر ہوتی ہے۔ علمائے باطن کے مطابق  ذہن میں آنے والے کسی بھی خیال کی عمر پندرہ  سیکنڈ ہوتی ہے۔  یعنی ایک خیال ذہن میں پندرہ سیکنڈ تک رہتا ہے۔ اس کی عمر میں اس سے زیادہ کمی تو نہیں ہوسکتی البتہ اس کو طول ضرور دیا جاسکتا ہے۔
ذہن میں کسی خیال کو جب بار بار دُہرایا جاتا ہے تو اُس کی عمر اور طاقت دونوں میں ہر تکرار سے اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ یعنی اگر کسی خیال کو بار بار دُہرایا جائے اور اُس کی تکرار ہو تو اُس خیال میں اتنی قوت اور طاقت پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ ذہن کو اپنی گرفت میں لے کر ا پر عمل کروا لیتا ہے۔ خیال کی تکرار ایک ایسا قانون ہے جس کو اچھے کاموں کو عملی صورت دینے اور بُرے کاموں  سے بچنے کے لئے دونوں طرح سے برتا جاسکتا ہے۔
خیال کی تکرار ارادی اور غیر اختیاری دونوں طور پر ہوتی ہے۔  انسان کو اپنے ذہن کی اس نہج پر تربیت کرنا ہوتی ہے کہ وہ اچھے خیالات کی تکرار ارادی طور پر کرے اور بُرے خیال کی تکرار غیر ارادی طور پر بھی نہ ہونے دے تاکہ اس سے اچھے اعمال کا ظہور تو ہوتا رہے لیکن بُرے افعال سرزد نہ ہونے پائیں۔ اس بات کی مشق کا ایک طریقہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ انٹر اور گریجویشن کے طلبا ء سے ، خواہ کوئی بھی مضمون پڑھ رہے ہوں، یہ کہا جائے کہ مسلمان قرآن حکیم اور دیگر مذاہب کے طلباء اپنی اپنی مذہبی کتب کے اوامر و نوا ہی  (Dos and Don’ts)  کی ایک فہرست خود تیا ر کریں اور اس بات پہ غور کریں کہ ہر امر اور ہر نہی میں کی حکمت چھپی ہوئی ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ ہر روز رات کو سونے سے پہلے خود اپنا احتساب کریں کہ آج انہوں نے کس امر یا حکم کی خلاف ورزی کی اور کس نہی سے خود  کو نہیں روک سکے۔ اس مشق کے آغاز  میں ذہن کو فقط نوا ہی میں مستور حکمت کو سمجھنے اور اُن پہ عمل سے بچنے پہ مرکوز رکھا جاسکتا ہے۔
مثلاً شک مت کریں، غصہ مت کریں اور غیبت مت کریں وغیرہ یہ سب نوا ہی ہیں۔ رات کو سونے سے پہلے بستر پر لیٹ کر تمام دن کی مصروفیات  پہ  ایک نظر ڈال کر خود اپنا  محاسبہ کیا جائے کہ آج میں نے کسی پہ شک کیا، غصہ کیا یا غیبت کی یا نہیں۔ اگر یاد آ جائے کہ آج فلاں صاحب سے بات کرتے وقت مجھے غصہ  آگیا تھا تو دل میں اس عہد کو تازہ کرے کہ آئندہ ایسا نہیں ہونے دوں گا۔ یہ عہد ایک طرف کی گئی غلطی پہ توبہ ہوگا اور دوسری طرف ضمیر کے اطمینان کا باعث بھی ہوگا۔ اس طرح کچھ ہی  عرصے کی مشق کے بعد آپ یہ دیکھ کر حیران رہ جائیں گے کہ آپ نوا ہی کی خلاف ورزی کے کم سے کم مرتکب ہو ہے ہیں۔ جوں جوں  نوا ہی سے بچنے میں کامیابی ہوتی چلی جائے اور ساتھ ساتھ اور امر کی پابندی پہ قائم ہونے کا آغاز کر دیا جائے تو  ایک دو سال کی اس سادہ سی مشق سے ہی اُس طرزِ فکر کی بنیادیں پڑنا شروع ہو جاتی ہیں جو انبیاء کی طرزِ فکر سے مماثل ہوتی ہے اور پھر جیسے جیسے اس مشق میں استحکام اور اوامر اور نوا ہی  کی پابندی اور پختگی آتی چلی جاتی ہے، یہ  طرزِ فکر ذہن میں راسخ ہونا شروع ہو جاتی ہے۔

اس طرزِ فکر کے حصول کے لئے اس بات کو سمجھنے کے بعد اس پر عمل پیرا ہونا اور اس عمل پر قائم اور کار بند رہے بغیر کسی کامیابی کی امید رکھنا اور یہ سمجھنا کہ انبیاء کی عطا کردہ طرزوں پر استوار معاشرہ تشکیل پا سکتا ہے  اور تشکیل پانے کے بعد   اپنا وجود قائم رکھ سکتا ہے تو یقیناً یہ ایک غیر منطقی سوچ ہوگی۔

تعمیر و تنظیم شخصیت

تعمیر و تنظیم شخصیت
انسان اس دنیا میں آتا ہے تو اپنے ساتھ اس دنیا کو محسوس کر نے والی حسیات  کا ایک ایسا پلندہ بھی ہمراہ لے کر آتا ہے جس کو برتنے اور استعمال کرنے پر وہ رفتہ رفتہ قادر ہوتا ہے۔ ان حسیات کو برتنے اور استعمال کا سلیقہ کسی حد فطری اور  جبلی ہوتا ہے اور بہت حد تک اکتسابی یعنی کچھ  حسیات کا استعمال  وہ ایک حد تک جبلی طور پر کرنا جانتا ہے اور پھر اکتساب یعنی سیکھنے کے عمل سے ان کے استعمال میں مہارت پیدا کرتا چلا جاتا ہے۔ اس اکتساب سے ایک طرف تو حسیات کی تعداد میں اضافہ کرتا ہے اور دوسری طرف وہ ان حسیات کے دائرہ استعمال میں توسیع کرتا ہے۔ عام طور پر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ حواس فقط پانچ ہی ہیں یعنی دیکھنے، سننے ، سونگھنے، چھونے ا ور چھکنے سے متعلق حواس  جن کو عرف عام میں حواسِ خمسہ کہ کر متعارف کروایا جاتا ہے۔ لیکن حقیقت میں انسانی حسیات کی تعداد بہت ہی زیادہ ہے اور ابھی ان کی بابت انسانی علم بہت ہی محدود ہے۔ اس کی چند ایک مثالیں وقت کا احساس ہونا، بھوک پیاس کا  احساس ہونا، گرمی سردی کو محسوس کرنا، ہوا میں رطوبت کی کمی زیادتی کو محسوس کرنا آنکھیں بند ہونے کے باوجود اپنے اندازِ نشست میں تبدیلی کو محسوس کر لینا، کسی ہونے والے واقعہ کی بابت پیشگی احساس ہو جانا وغیرہ ۔ اس قسم کی تمام حسیات کو ہم نے چھٹی حس کہ کر ان کو در خور اعتنا تک نہیں گر دانا۔ اب چونکہ حسیات انسانی حصولِ علم کا ایک مؤثر ذریعہ ہیں اس لئے خود حسیات کی بابت نہ جاننا ہمارے علم کو محدود کرنے کا ایک بہت بڑا سبب بن جاتا ہے۔
انسان ان تمام حسیات کے استعمال سے اپنے شعوری ذخیرہ علم میں اضافہ کرتا رہتا ہے۔ اس علم کی روشنی میں وہ مختلف اعمال اور افعال سرانجام دیتا ہے۔ ہر شخص ان اعمال و افعال کو اپنے ایک مخصوص انفرادی انداز میں سرانجام دیتا ہے۔ اس مخصوص  انفرادی انداز کو ہم اس شخص کی خاصیت تعبیر کرتے ہیں۔ ہر فرد اپنی مخصوص  خصوصیات  کے  سبب اپنی ذات کو منفرد انداز اور مختلف طرزوں پر ظاہر  کرتا ہے۔ اپنی ذات کے اظہار کا یہ انداز اس فرد کی شخصیت کہلاتا ہے۔ چونکہ ہر فرد اپنی ذات کے اظہار کے لئے ایک منفرد اور جداگانہ انداز اختیار کرتا ہے، اِس لئے ہر فرد کی شخصیت کسی بھی دوسرے فرد کی شخصیت سے مماثلت رکنے کے باوجود کچھ نہ کچھ انفرادی پہلو بھی رکھتی ہے۔
انسان کی شخصیت کے بننے میں وہ ماحول بھی بہت اہم کردار ادا کرتا ہے جس ماحول میں انسان پلتا، بڑھتا، رہتا اور بستا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ اثرات مورثی بھی ہوتے ہیں اور اکتسابی بھی۔ یعنی انسان کی شخصیت میں تعلیم و تربیت کے ذریعے ایسی تبدیلیاں لائی جاسکتی ہیں جن کے سبب کسی فرد کی شخصیت کی ناگوار اور ناپسندیدہ باتوں کو ختم یا کم کیا جاسکتا ہے اور خوشگوار اور پسندیدہ باتوں کو اختیار کرایا اور بڑھایا جاسکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ کسی بھی فرد کی شخصیت میں مطلوبہ تبدیلیاں لانے کے لئے تربیت اور تبدیلی ماحول بنیادی اہمیت   کے حامل ہوتے ہیں۔ لیکن ان دونوں باتوں سے کہیں زیادہ بڑھ کر ضروری اور اہم چیز ہوتی ہے فرد کی اپنی خواہش اور ارادہ۔
اگر ایک فرد کی اپنی کوئی خواہش اور تمنا ہی نہیں ہے کہ اُس کی شخصیت میں کیا، کتنی اور کونسی تبدیلی آنا چاہئے تو اُس کی شخصیت میں کبھی کوئی تبدیلی یا بہتری نہیں لائی جاسکتی۔ اس امر کا فیصلہ ہر فرد کو خود ہی کرنا ہوتا ہے کہ وہ اپنی شخصیت میں کیا اور کتنی تبدیلی چاہتا ہے اور اس خواہش کو پورا کرنے میں وہ کس حد تک مخلص اور پرعزم ہے۔ اگر وہ اپنی شخصیت میں بہت سی مثبت خوبیوں کو پیدا کرنے کی خواہش تو بہت رکھتا ہے لیکن اس خواہش کو پورا کرنے کے لئے کسی قسم کے عملی اقدامات سے گریزاں ہی رہتا ہے تو ظہر ہے کہ محض خواہش کے زور پر ایسی تبدیلیاں پیدا نہیں ہو جایا کرتیں ہیں۔ خواہش کے ساتھ ساتھ اس خواہش کو پرا کرنے کے لئے عملی اقدامات کرنا  ہی لازم آتا ہے۔
اکثر یہی سمجھا جاتا ہے کہ انسانی شخصیت میں کوئی تبدیلی نہیں لائی جاسکتی اور یہ تو محض ایک خد ادا چیز ہوتی ہے۔ ایسا ہرگز بھی نہیں ہے۔ انسان کی شخصیت  خود اُس  کے اپنے ارادے اور عزم کے تابع ہوتی ہے۔ انسان اپنی ذات کے اظہار کا جو بھی انداز اپنانا چاہتا ہے وہ اپنا سکتا ہے۔ اس کے لئے اُس کے اپنے ارادے کی طاقت اور یقین کی قوت کو بروئے کار لانا ہوتا ہے۔ اساتذہ کرام اپنے تلامذہ کی اپنے ارادے اور یقین کی قوتوں کا درست استعمال کرنے میں معاونت کرکے ان کی شخصیت کو خوشگوار اور مقناطیسی بنانے میں مددگار ہوسکتے ہیں۔
ہم جانتے ہیں کہ بعض لوگ دوروں کے لئے کچھ زیادہ ہی پسندیدہ ہوتے ہیں جبکہ وہی افراد بعض دیگر افراد کو اتنے زیادہ اچھے نہیں لگتے۔ ہم اِس بات عموماً شخصیت کا ٹکراؤ کہ کر اس بات پر کوئی زیادہ غور نہیں کرتے اور جو 'جیسا ہے اس کو ویسا رہنے دو' کی پالیسی اپنائے رہتے ہیں۔ حالانکہ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ناپسندیدہ لگنے والا فرد  اور  ناپسند کرنے والا 'جس کو وہ فرد اچھا نہیں لگ رہا' دونوں اپنا اپنا مخصوص اندازِ اظہار  ذات رکھتے  ہیں۔ یہ دونوں ایک دوسرے کو اس لئے پسند نہیں کر پا ہے کہ ان کی پسند کے معیار الگ الگ ہیں۔ جو بات ایک کو اچھی لگ رہی ہے اور اُ س نے اس کو اپنا لیا ہوا ہے، وہی بات دورے کے لئے نا پسندیدگی  کا سبب بن رہی ہوتی ہے۔ یہی ناپسندیدگی اکثر اوقات انتہا پسندی کی حدوں کو چھونے لگتی ہے اور بڑے بڑے تنازعات کو جنم دینے کا باعث بن جاتی ہے۔
اگر انسان میں غور و فکر کی عادت ہو تو وہ اس بات کو ویسا  ہی نہیں رہنے دے سکتا۔ وہ اس بات پہ سوچ بچار کرکے اپنی شخصیت کے اُس پہلو کو جو دوسرے کو بھلا نہیں لگ رہا، اُس کو تبدیل کرنے کی کوشش کرتا ہے یا پھر کم از کم اُس سے پہلو تہی کا انداز اپنانے کی کشش کرتا ہے جس کو اُس کی شخصیت سے پھیلتی لہروں سے کوفت ہو رہی ہوتی ہے۔ اس کوفت کی بے شمار وجوہات ہوسکتی ہیں۔ اگر اس کوفت کی وجہ محسوس کرنے والے فرد کا اپنا حسد یا کوئی ذاتی عناد ہو تو پھر اپنی شخصیت میں تبدیلی کا سوچنے کی بجائے پہلو تہی ہی بہتر رہتی ہے۔ لیکن اگر دوسرے کی کوفت کا اصل سبب حسد یا  ذاتی عناد نہیں ہے تو پھر اپنی شخصیت میں اس بات کو تلاش کرنا اور ُس کو دور کرنے کا اہتمام ہونا چاہئے جو دوروں کے لئے باعث کوفت بن رہی ہوتی ہے۔
بعض لوگوں کے نزدیک فیصلہ کن انداز نہ اپنا سکنا، کمزور قوتِ ارادی، غیر متاثر کن شخصیت کا سبب ہوتا ہے۔ اس کا ازالہ اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنی شخصیت کے ان دو اجزاء یعنی قوتِ ارادی اور قوتِ فیصلہ کو بہتر  نہیں بنا لیتے۔ جب یہ دو اجزاء   اپنی اصل آب و تاب سے جزؤ شخصیت بن جاتے ہیں تو بہت سی نفسیاتی پیچیدگیوں اور بیماریوں کا بھی خاتمہ ہو جاتا ہے۔ احساسِ کمتری ہو یا احساسِ برتری ، خوف اور خوبیاں ہو یا  شیزد  فرینیا اور  دوہری شخصیت کے مسائل ، خود اعتمادی کی کمی ہو یا ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی کے تحت ہونے والی غلطیاں ان تمام باتوں کے پس پردہ جو واحد  کمزوری ہوا کرتی ہے وہ یقین کی کمی ہوا کرتی ہے۔ خود اپنی صلاحیتوں پہ یقین کرنے سے لے کر اپنے خالق اور رب پہ یقین کرنے کی تمام تعلیمات کے پیچھے اصل حکمت یہی مستور ہے کہ انسان ان تمام مذکورہ ذہنی اور نفسیاتی بیماریوں سے محفوظ رہنے کے ساتھ ساتھ اپنے اندر پوشیدہ صلاحیتوں کا بھر پور استعمال کرکے خود اپنا بھلا بھی کرے اور دوسروں کے کام بھی آئے۔
کہنے کو تو یقین ایک ایسا عقیدہ ہے جس میں کوئی شک نہیں ہوتا لیکن اس کی اسل بیت اور ماہیت کیا ہوتی ہے اس بات پہ بہت کم غور کیا گیا ے۔ مذاہب کی زبان میں اس کو ایمان کہا جاتا ہے۔ اس کی جو جہت مذاہب کی تشریح کرنے والوں نے بیان کی ہے، اس بحث سے دامن بچاتے ہوئے اتنا کہنا بہت کافی ہے کہ یقین ایک ایسے قوت اور توانائی ہے جو موجودات کو عدم سے وجود  میں لانے کی بنیاد فراہم  کرتی ہے۔ جب ایک بچہ دریافت کرنے پر  یہ بتاتا ہے کہ وہ بڑا ہو کر ایک ڈاکٹر یا انجنیئر بنے گا تو اس بات کو عملی زندگی میں مظہر بننے کے لئے جس طاقت اور توانائی کی ضرورت ہوتی ہے اس کو یقین کہا جاتا ہے۔ اگر ایک بچہ کہتا ہے کہ وہ بڑا ہو کر ڈاکٹر بنے گا لیکن اُس کو اس بات کا یقین نہ ہو کہ وہ ایسا کر سکتا ہے تو کبھی ڈاکٹر نہیں بن سکتا۔ اسی طرح جب کوئی بچہ کسی کام کو کرنے کا اقرار کرتا ہے تو  وہ اُس کام کو اس وقت تک کر ہی نہیں سکتا جب تک اُس کے اندر یہ یقین نہ ہو کہ وہ یہ کام کر سکتا ہے۔ یقین کی اس قوت کی کار فرمائی کا دائرہ صبح وقت پہ اٹھنے ، سکو کالج یا دفتر جانے سے لے کر زندگی میں کچھ بننے تک ہر سطح تک پھیلا ہوا ہے۔
صبح جس وقت اٹھنا ہو اسی وقت اٹنے کے لئے بھی قوت ارادی کو ہی کام لایا جاتا ہے۔قوت ارادی سے انسان تبھی کام لے سکتا ے جب ُس کے اندر یقین کی روشنی ہو۔ جب کسی آدمی کو زندگی میں کوئی ایسا  انسان مل جاتا ہے جو اُس کو اپنے اندر یقین کی شمع کو فروزاں کرنے، اپنی قوت ارادی اور قوت فیصلہ کو درست انداز میں استعمال کرنا سکھا  دیتا ہے تو وہ اپنی زندگی میں کسی بھی منزل تک رسائی حاصل کر لینے کے قابل ہوسکتا ہے۔ جب زندگی کی شاہراہ یقین کی روشنی سے منور ہو تو سفر حیات میں سہولت ہی نہیں ہوتی بلکہ مزہ بھی آتا ہے۔
جن اساتذہ کرام کے اندر یقین کی روشنی جگمگاتی ہے، اُن کے تلامذہ میں بھی یہ روشنی نفوذ کر جاتی ہے اور وہ اس دولتِ بے بہا سے منور ہوتے چلے جاتے ہیں۔ جس انسان میں یقین کی روشنی فروزاں ہو اس کی شخصیت میں ایسی خوبیاں خود بخود پیدا ہوتی چلی جاتی ہیں جو اُس کو عزیزِ جہاں اور محبوب خلائق بنا دیتی ہیں۔ یقین  کی دولت سے مالا مال فرد کو اپنے اندر ایک ایک کرکے خوبیاں اُگانے اور ان کی پرورش کرنے کے خصوصی اہتمام کرنے کے لئے زیادہ تگ و دو بھی نہیں کرنی پڑتی۔ اُس کی شخصیت کی سب سے بڑی دلآویزی کا سبب اس کی یہ خوبی ہوتی ہے کہ وہ جو کچھ کہتا ہے اُس کو کرکے دکھا سکتا ہے۔ ایسا انسان اپنی شخصیت کے حوالے سے ایک سحر طرازی اور مقناطیسیت کا حامل ہو جاتا ہے ۔
شخصیت میں دلآویزی  کے لئے قوت ارادی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اب اصل صورت حال کچھ یوں ہے کہ یہ قوت ہوتی تو سب ہی کے اندر ہے لیکن اس کا درست اور برمحل استعمال کرنا کم ہی استعمال کرنا کم ہی لوگوں کو آتا ہے۔ اساتذہ کرام اپنے تلامذہ کو اس قوت کے درست استعمال کے انداز کی تربیت دینے کو انہیں یہ بتا سکتے ہیں کہ بڑی بڑی باتوں کے لئے وہ ا قوت کا استعمال تبھی کر سکیں گے جب وہ اس کو چھوٹے چھوٹے کاموں میں بر تنا سیکھیں گے۔ اس کا آغاز وہ صبح سویرے سورج طلوع ہونے سے پہلے اٹھنے کی مشق سے کرسکتے  ہیں۔ اس کے لئے ایک مجرب طریقہ یہ بھی بتایا جاسکتا ہے کہ وہ رات کو، سونے سے پہلے ، اپنا نام لے کر خود سے کہیں کہ آپ کو صبح اتنے بجے اُٹھنا ہے۔ یہ جملہ فقط تین بار دہرا کر سونے کے لئے آنکھیں بند کرلیں۔ صبح جب اس مقررہ وقت پر آنکھ کھل جائے تو اس کے بعد سستی نہیں ہونے دینا اور قوتِ ارادی سے کام لے کر اٹھ کر طے کئے گئے کاموں میں مصروف ہو جانا  ہے۔ اس مشق کے فوائد گنوانے کی بجائے یہ کہ دینا ہی کافی  رہتا ہے کہ جب آپ اس کو آزمائیں گے تو اس کے اور بھی بہت سے فوائد آپ کو خود ہی معلوم ہو جائیں گے۔
اس مشق سے جہاں ایک طرف قوت ارادی کو توانائی ملتی ہے وہاں دوسری  طرف سحر خیزی کے تمام تر فوائد بشمولِ جسمانی اور ذہنی صحت  اور تندرستی بھی حاصل ہوتے ہیں۔ اس بات پہ دعوت فکر دینے میں بھی کوئی حرج نہیں ہوگا کہ آخر ہر مذہب میں صبح سویرے اٹھنے کی تعلیم میں کیا حکمت پوشیدہ ہے؟
اس بات کو زیادہ دلچسپ بنانے کے لئے شخصیت میں مقناطیسیت پیدا کرنے کے حوالے سے چار تا چھ ماہ کے لئے یہ مشق بھی تجویز کی جاسکتی ہے۔
۱۔ صبح سویرے اٹھنے کے لئے رات کو دوہرا انتظام یوں کریں کہ ایک تو خود کو اپنا نام لے کر ہدایت دے کر سوئیں ۔ یہ کہ محمود آپ نے صبح پانچ بجے اٹھنا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ گھڑی پہ سوا پانچ بجے کا الارم بھی لگا لیں۔ تکہ اگر شعور نہ بھی ساتھ دے تو بھی آپ طلوعِ آفتاب سے پہلے اٹھ سکیں۔
۲۔ سورج نکلنے سے  پہلے اُٹھ کر کھلی ہوا دار جگہ پہ کم گردن اور سر کو ایک سیدھ میں رکھ کر ، فرش، تخت  یا کرسی پر بیٹھ جائیں ۔ آنکھیں بند کرکے پانچ سے دس منٹ تک آہستہ آہستہ  گہرے گہرے  سانس اس طرح سے لیں کہ سانس ناک کے راستے لی لیا جائے اور منہ کے راستے نکالیں۔ سانس نکالتے وقت ہونٹوں کو سیٹی بجانے کے انداز میں سکیڑ کر گول کرلیں۔ اس دوران ذہن کو آزاد اور ڈھیلا چھورے رکھیں۔
۳۔ اس کے بعد فرش پر دری یا چٹائی بچھا کر اس طرح چت لیٹ جائیں کہ آپ کے پاؤں جنوب کی طرف اور سر شمال کی طرف ہو۔ اس حالت میں نہایت آہستہ آہستہ سانس ناک کے راستے لیتے ہوئے یہ تصور کریں کہ زمین میں بہنے والی مقناطیسی لہریں، جنوب سے بہتی ہوئی، آپ کے پیروں کے راستے آ پ کے اندر سے ہوکر ، آپ کے جسم کو گزر گاہ بناتے ہوئے، آپ کے سر سے ہوتی ہوئی شمال کی طرف  جا رہی ہیں۔ جب پھیپھڑے ہوا سے اتنے بھر جائیں کہ مزید سانس نہ لیا جا سکے تو سانس کو نہایت آہستگی  سے منہ کے راستے خارج کرنا شروع کر دیں اور اب یہ تصور کریں کہ زمین کی مقناطیسی لہریں فضا میں بہتی ہوئی واپس جنوب کی طرف جا رہی ہیں۔ یعنی یہ تصور کرنا ہوتا ہے کہ واپسی پہ یہ لہریں آپ کے جسم سے ہوکر نہیں گزر رہی ہیں  بلکہ باہر ہی سے واپس قطبِ جنوبی کی طرف جا رہی ہیں۔ جب سانس پوری طرح خارج ہو جائے گا تو یہ ایک چکر مکمل ہوگیا۔ اسی طرح سے گیارہ چکر مکمل کر لیں۔

اس مشق سے جسم میں آکسیجن کی کمی بھی پوری ہونا شروع ہوجاتی ہے اور قوت ارادی بڑھنے کے ساتھ ساتھ آپ کی شخصیت میں ایسی جاذبیت اور کشش پیدا ہو جاتی ہے کہ لوگ آپ کی طرف کھنچتے چلے آئیں گے۔ اساتذہ  کرام کو اس مشق سے خصوصی فائدہ یہ ہوگا  کہ اُن کے تلامذہ ان کی بات ماننے پر زیادہ مستعدی اور سہولت سے آمادہ ہوں گے ۔

Featured Post

Donald Trump Signs Executive Order to Assure Security of Qatar – Full Details

  Donald Trump Signs Executive Order to Assure Security of Qatar – Full Details In late September 2025, former U.S. President Donald Trump ...