Thursday, 28 December 2017

معاشرتی رویّے

معاشرتی رویّے
جب بھی کوئی صاحب بیرونِ ملک جاتے ہیں اور خصوصاً کسی مغربی ملک تو سب سے زیادہ وہ جس بات سے متاثر ہوتے ہیں، وہ اُن ممالک کے لوگوں کی قانون پسندی اور اُن کے معاشرتی رویوں کا بہت ہی گہرا تاثر لیتے ہیں اور اکثر اس بات کا تذکرہ کرتے ہیں ہم ویسے کیوں نہیں ہیں؟ وہ اصول پسندی، احترامِ انسانیت، سچ بولنا، قانون کی پاسداری اور قانون کا ڈر اُس کے خوف کی بجائے قانون کے احترام کا جذبے کے تحت ، صفائی، سلیقہ اور ایک معاشرتی نظم و ضبط جیسی باتیں ہم میں کیوں پیدا نہیں ہوسکیں؟
ان سب باتوں کا اگر جائزہ لیا جائے تو تان یہاں آکر توڑ دی جاتی ہے کہ یہ سب باتیں انہوں نے اسلام  کے زریں اصولوں سے اخذ کی ہیں۔ یہ سن کر ہم سب  اس سے آگے سوچنا بند کر دیتے ہیں اور اس فخر کا شکار ہو کر بے سدھ ہو جاتے ہیں کہ کچھ بھی ہو وہ ہیں تو ہم سے کمتر کہ انہوں نے سب کچھ ہم سے ہی تو سیکھا ہے۔ لیکن جب غیر جانبداری اور خلوصِ نیت سے اس بات کا تجزیہ کیا جائے کہ اس لفظ 'ہم' سے کیا مراد ہے، تو یہ دیکھ کر بہت عجیب سا لگتا ہے کہ اس سے مراد ہمارے وہ آباؤ اجداد  جنہوں نے کبھی اسلام کے زریں اصولوں کو اپنا کر تحقیق اور ریسرچ کا ایسا علم بلند لیا تھا کہ پوری دنیا کو رنگوں  کر لیا تھا۔ اسلام کے اصولوں کی جس کسی نے جب بھی کبھی پاسداری کی وہ سرخ رو ہوا۔ آج ہم محض اسلام کے نام لیوا تو ضرور ہیں لیکن اس کے عامل نہیں۔ اسلام کے اصول آفاقی سچائیوں کے حامل ہیں۔ جس کسی نے بھی ان پر عمل کیا چاہے اسلام کے اصولوں سے  پہلو تہی اور اجتناب کی روشن اپنائی وہ دوسروں کا دستِ نگر اور باجگز  اربن کر ہی زندہ رہ سکا۔
اسلام کی تعلیمات کو اپنی محدود سوچوں، بے عملی کی بڑھی ہوئی حد اور اپنے کام سے کام رکھنے کی بجائے ایک دوسرے کی کاٹ میں قوت اور وقت کا زیان کرنے کی عادت بد کے ہاتھوں ہم نے کتابوں میں مقید اور محبوس  کرکے کوئی کارنامہ سرانجام نہیں دیا ہے۔ یہ تین بنیادی کمزور یاں ہیں جو ہمارے معاشرتی رویوں کی پوری دیوار کو ٹیڑھا کئے ہوئے ہیں۔ اگر ہم اپنی سوچوں کو محدود طرزوں سے نکالنے میں کامیاب ہو جائیں، زبانی جمع خرچ کی بجائے عملی کام کو فوقیت دینا سیکھ جائیں اور دوسروں کی ٹانگیں کھینچنے اور بے مقصد نکتہ چینی کے بجائے ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کو اپنا چلن بنالیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہمارے معاشرتی رویے درست نہ ہوسکیں۔
معاشرتی رویوں کی اصلاح کے لئے ضروری ہے کہ ہم سے ہر ایک ان تین باتوں کو اپنے اندر پختہ اور راسخ کرلے اور اپنی پوری توانائی اس امر کو یقینی بنانے  میں صرف کرے کہ ہم اپنی سوچوں کو محدود نہیں رہنے دیں گے، اپنی توانائی کو مثبت طرزوں میں صرف کرنے کو شعار بنائیں گے اور غیبت اور نکتہ چینی کی بجائے اگر ہو سکا تو کوئی مفید مشورہ دے دیں گے ورنہ خاموش رہنے کی مشق کر بڑھائیں گے۔
اب یہ کہ دینے سے کہ ہم سب کو ایسا کرنا چاہئے، ایسا ہونے سے تو رہا۔  ایسا ویسا تب ہی ہوسکتا ہے جب اس پر عمل پیرا ہو جائے۔ استقامت اور ثابت قدمی سے ان باتوں کو اپنانے کی راہ پر گامزن رہا جائے۔ انتہائی نا مساعد حالات میں بھی اپنے عمل کو ترک نہ کی جائے تو تب کہیں جا کر یہ ممکن ہوگا  کہ ان باتوں کے مثبت اثرات ہمارے معاشرتی رویوں میں نظر آنا شروع ہو جائیں۔ ورنہ تو یہ خواب ہے اور اس کو عملی صورت دینے کی محض خواہش ہی کافی نہیں ہوسکتی اس کے لئے ہمیں اپنے اندر تبدیلی لانا ہی ہوگی۔
ہمارا نظامِ تعلیم اور درس گاہیں اس ضمن میں جو کردار ادا کرسکتے ہیں وہ بہت مؤثر ثابت ہوسکتا ہے۔ اساتذہ کرام اپنے شاگردوں کے اندر ان باتوں کو پختہ کرنے کی ابتدا کرسکتے ہیں۔ وہ اُن میں اس بات کا شعور اجاگر کریں، درس گاہ اور کلاس روم میں نظم و ضبط اور ڈسپلن کو فروغ دیں اور انہیں اس بات پر آمادہ کریں کہ وہ اپنے رویوں میں مثبت تبدیلی لائیں۔ اب کہنے اور سننے میں تو یہ بات بہت ہی خوش کن محسوس ہوتی ہے لیکن اس کو اساتذہ کرام عملی طور پر کیسے کریں گے؟ بنیادی طور پر تو یہ بات خود اساتذہ کرام ہی کے طے کرنے کی ہے کہ وہ اس کے لئے کیا لائحہ عمل اختیار کرتے ہیں اور بعض اداروں کے اساتذہ تو ایسا کر بھی رہے ہیں۔ اب ایچی سن کالج، کا کول ملٹری اکیڈمی اور سول سروسز کے تربیتی اداروں کے فارغ التحصیل طلباء  کے معاشرتی رویے عام سکولوں اور کالجوں کے سٹوڈنٹس سے اسی لئے  تو اتنے مختلف ہوتے ہیں کہ وہاں پہ اساتذہ اس بات کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں کہ اُن کے یہاں تعلیم پانے والے ان باتوں سے آگاہ رہیں جن پہ آگے جا کر اُن کو کار بند رہنا چاہئے ۔ آخر وہ بھی تو اساتذہ ہی ہیں اور پھر اسی ملک کے اساتذہ۔
فرق ہے تو صرف اتنا کہ اُن اساتذہ کو ان اداروں کی انتظامیہ کی طرف سے جیسا کرنے کی ہدایات ملتی ہیں وہ ویسا ہی کرتے ہیں اور دوسرے اداروں کی انتظامیہ ان باتوں پہ زیادہ دھیان نہیں دیتی لہٰذہ وہاں پہ ان باتوں کا فقدان نظر آتا ہے۔ اس لئے یہ سکولوں کی انتظامیہ کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے اساتذہ کرام سے اس بات کی فرمائش کرے کہ وہ اپنے شاگردوں میں ان باتوں کا شعور اجاگر کرنے پہ  مناسب توجہ دیں۔
ان باتوں کا آغاز عملاً اُس وقت ہی ہو جاتا ہے جب ایک استاذ پہلی بار کلا س روم میں داخل ہوتا ہے ۔ بچے اس پہلی ملاقات پہ ہی یہ بات طے کر لیتے ہیں کہ اس استاذ کے ساتھ اُن کا آئندہ برتاؤ کیسا ہوگا اور وہ خود کو کس حد تک اُس کے حوالے کرنے پر آمادہ ہیں۔ وہ سمجھدار استاذ جن کو اپنے کام پر عبور حاصل ہوتا ہے اس موقعے کا پورا فائدہ اٹھانے میں کوئی کوتاہی نہیں کرتے ۔ وہ اپنا تعارف کروانے کے بعد براہ راست کتاب نکال کر پڑھانے کی بجائے اس بات کی وضاحت کرنا شروع کر دیتے ہیں کہ وہ اپنے تلامذہ سے کن کن باتوں کو توقع کرتے ہیں؟ پڑھانے کے لئے وہ کیسا ماحول چاہتے ہیں؟ اس ماحول کو بنانے میں انہیں اپنے طلباء سے کیا کیا تعاون درکار ہیں۔
اگر ایک استاذ سبق کا آغاز کرنے سے پہلے پانچ دس منٹ ایسی چند ایک باتوں کی وضاحت کر دے تو اس کا سب سے بڑا فائدہ تو یہی ہوتا ہے کہ بچے سبق کے لئے ذہنی طور پر آمادہ و تیار ہو جاتے ہیں اور انہیں یہ اندازہ بھی ہو جاتا ہے کہ یہ استاذ مزاجاً کس طبیعت کا ہے۔
اس موقعے سے فائدہ اٹھانے کا ایک انداز یہ بھی ہو سکتا ہے کہ استاذ طلباء سے صاف صاف کہ دے۔ "ایک استاذ ہونے کے ناطے میرا فرض ہے کہ میں اپنے شاگردون کی مدد کروں، اُن کو جو بات سمجھنے میں مشکل ہو اُس کو سمجھنے میں میں اُن کی مدد کروں۔ میں آپ کو پڑھانا تو سکھا سکتا ہوں لیکن پڑھنا تو خود آپ ہی کو ہوگا۔ اس لکھنا پڑھنے سیکھنے کے لئے ایک خاص قسم کے ماحول کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر آپ وہ ماحول کلاس کے اندر بنائے رکھیں گے تو آپ کو لکھنا پڑھنا سیکھنے میں زیادہ دشواری نہیں ہوگی۔ جب آپ لکھنا پڑھنا سیکھ جائیں گے تو آپ ان کتب کا مطالعہ کریں گے۔ ان میں درج باتوں کو سمجھیں گے، اُن کو یاد کریں گے۔ پھر ہم آپ کو امتحان کے لئے تیاری کروائیں گے تاکہ آپ اچھے نمبروں سے امتیازی شان سے امتحان  میں کامیاب ہوسکیں۔ اس کے لئے آپ کو مجھ سے یہ عہد کرنا ہوگا کہ جو کچھ میں آپ سے کہوں گا آپ اُس پر خلوصِ دل سے عمل کریں گے اگر آپ کو اُس پر عمل پیرا ہونے میں کوئی دشواری ہو تو بلا جھجک مجھ سے پوچھیں گے۔ ہاں اس پوچھنے کو بھی ایک طریقہ ہونا چاہئے۔ ایسا نہ ہو کہ آپ سب ہی ایک ساتھ پوچھنا شروع کردیں۔ اس سے تو کلاس میں شور مچ جائے گا اور میں کسی کی بات بھی سن نہیں سکوں گا۔ اس لئے بھئی پہلا قانون یہ طے کر لیتے ہیں کہ جس نے کچھ پوچھنا ہو وہ ہاتھ کھڑا کرے گا اور اجازت  ملنے پر ہی بولے گا۔ کیوں بھئی ٹھیک ہے نا؟
اسی ماحول کو بنانے کے لئے ایک بہت ہی کار آمد بات یہ ہے کہ جب آپ کلاس میں بیٹھے ہوں تو کرسی  پہ اسی طرح بیٹھیں کہ آپ کی کمر سیدھی رہے۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ آپ دیر تک بیٹھ کر کام کرنے کے باوجود تھکیں گے نہیں۔ کمر کو سیدھا رکھیں لیکن اس کو زیادہ اکڑانا بھی ٹھیک نہیں۔ جب چلیں تو کندھے ڈھلکے ہوئے نہیں ہونے چاہئیں اور پاؤں گھسیٹ کر تو بالکل بھی نہیں چلنا چاہئے۔ کرسی پہ  بیٹھے ہوں تو آپ کے گھنٹے آپ کے اپنے سامنے رہنے بہت ضروری ہیں کیونکہ میں کلاس میں ادھر اُدھر چلتے پھرتے آپ کے پیروں سے ٹکرایا تو یہ بہت بُرا ہوگا۔ ہوسکتا ہے کہ مجھے چوٹ لگ جائے۔
سوال ضرور پوچھی۔ سوال پوچھنے میں شرم نہیں کرنی چاہئے۔ لیکن سوال پوچھنے کا سلیقہ ہونا بہت ہی ضروری ہے۔ باری باری پوچھیں۔ ذاتی مسائل کے حل تو آپ مجھ سے کلاس کے بعد سٹاف روم میں آکر بھی پوچھ  سکتے ہیں۔ اب تک میں نے جو کچھ کہا اس کی مزید وضاحت کی کوئی ضرورت ہے یا میں آگے چلوں؟"
اس طرح جب استاذ یہ واضح کر دیتا ہے کہ وہ بچوں کے مسائل کو حل کرنے وہاں آیا ہے اور یہ کام وہ خوش مزاجی سے کر سکتا ہے تو بچے اُس کے ساتھ تعاون کرنے پر آمادہ تیار ہو جاتے ہیں اور استاذ کا کام آسان ہو جاتا ہے۔ بچوں کو کلاس میں ڈسپلن کی عادت پڑتی ہے اور رفتہ رفتہ نظم  و ضبط   ان کی عادت بنتا چلا جاتا ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ جب تک اساتذہ کرام اس بات کو اپنے اندر راسخ نہیں کرلیتے کہ وہ اتنا ہی کہیں جس پر وہ  عمل کرا سکیں اور جتنا کہیں اس پر عمل کروانے کی پوری  کوشش کریں، تو اس وقت تک ایسی ویسی کسی بھی بات کا کچھ بھی مطلب نہیں نکل سکتا۔ یہ محض ایک ایسی ہی بات بن کر رہ جائے گی جس کو بچے ایک کان سے سن کر دوسرے سے اُڑا  دیا کرتے ہیں۔
جب بچے میں خود سپردگی کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے تو اُس وقت استاذ اُس کے معاشرتی رویوں میں بہتری لانے کی بات تجویز کرسکتا ہے۔ لیکن جب تک بچے میں تسلیم و رضا کے جذبات ابھر نہیں آتے اس وقت تک ہوتا یہ ہے کہ اساتذہ کرام بچے کے ذہن میں ڈالتے ہیں کہ جھوٹ نہیں بولنا اور بچہ جب گھر جاتا ہے تو دیکھتا ہے کہ اس کے ارد گرد  اکثر لوگ جھوٹ بولنے کو بُرا تو  کجانا روا بھی نہیں سمجھتے تو وہ الجھ کر رہ جاتا ہے اور اپنے ذہن میں ٹھان لیتا ہے کہ یہ سب منافقت کے شاخسانے ہیں ۔ اب اگر اس کو اپنے استاذ سے ذہنی ہم آہنگی ہو تو اس موضوع پر اُس سے کھل کر بات کر لے گا۔ جب بات کرے گا و استاذ اس کے ذہن کی الجھن یہ کہ کر رفع کرسکتا ہے کہ بھئی جھوٹ تو جھوٹ ہی ہے چاہئے سب ہی اسی روش پہ چلیں لیکن اگر صداقت  اور سچائی کو اپنایا ہی نہیں جائے گا تو بھلا اس کے فوائد کیسے حاصل ہو سکیں گے۔ اب حضورﷺ بھی تو ایک ایسے معاشرے میں حق و صداقت پہ قائم ہوگئے تھے جہاں سب ہی جھوٹ اور کفر بولتے تھے۔ جب اس قدر جھوٹے معاشرے نے انہیں ان کی سچائی کی بدولت صادق اور امین کے خطاب دے دیئے تو اس بات پہ بہت غور ہونا چاہئے کہ حضورﷺ کو لوگوں نے تکلیفیں سچ بولنے پر دی تھیں یا اس کی وجوہات کچھ اور تھیں۔ سچ بولنے پہ تو اُن کو کفار تک نے صادق اور امین ہی کہا تھا۔ وہ تو جب انہوں نے اللہ کے حکم کے مطابق ان کو ایک خدا کی پرستش اور اس  کے ساتھ کسی کو شریک نہ  کرنے کا کہا تو اُن کو لگا کہ حضورﷺ کی بات ماننے سے اُن کی چودھراہٹ ختم  ہو  جائے گی اس لئے انہوں نے پہلے تو انہیں لالچ دیئے لیکن جب حضورﷺ اپنی بات پہ ڈٹے رہے تو وہ اُن کے دشمن بن گئے۔ دیکھو بھئی میں تمہیں ایک راز  کی بات بتاؤں ۔ دراصل جھوٹ بولنے سے اور تو کچھ ہوتا ہے یا  نہیں لیکن اس سے انسان کے اندر ذخیرہ شدہ توانائی بہت ضائع ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہر نبی اور ہر پیغمبر نے جھوٹ بولنے سے منع ہی فرمایا ہے۔
اس طرح جب عقلی دلائل کے ساتھ بات بچوں کو سمجھائی جاتی ہے تو اُس بات پہ قائم ہونے میں انہیں زیادہ وقت نہیں ہوتی۔ اور اگر کسی استاذ ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ اساتذہ کیسا معاشرتی انقلاب لا سکتے ہیں۔ اساتذہ کرام کو اپنے معمار قوم ہونے کا مطلب سمجھنا ہی ہوگا ورنہ تو زمانہ قیامت کی چال چل ہی رہا ہے۔



امتحانی نظام

امتحانی نظام
درس و تدریس کے نظام میں یہ دیکھنے کے لئے کہ تعلیم پانے والوں نے اپنے اساتذہ سے کیا کچھ سیکھا ہے، اُن کا امتحان لیا جاتا ہے۔ امتحان لینے کے یوں تو کئی طریقے ہیں، لیکن معروف طریقہ یہی بن چکا ہے کہ طالب علم سے اس کی قابلیت جانچنے کے لئے کچھ سوال پوچھے جاتے ہیں۔ یہ سوال جواب زبانی بھی پوچھے جاسکتے ہیں اور تحریری طور پر بھی۔ اس کے علاوہ ایک اور طریقہ یہ بھی ہے کہ شاگرد کو کوئی کام کرنے کو کہا جاتا ہے اور اُس اسائنمنٹ کی تکمیل پر یہ جانچا جاتا ہے کہ اُس نے وہ کام کیسے اور کس معیار کا کیا ہے۔ عام طور پر یہ طریقہ خاص خاص فنون جیسے میڈیکل یا انجنیئرنگ جیسے علوم میں زیادہ آزمایا جاتا ہے۔ اُن سوالوں سے جو امتحان میں پوچھے جاتے ہیں، اس بات کا بہت گہرا تعلق ہے کہ ہم کیا جانچنا چاہتے ہیں۔
اگر بچے کی یاداشت کو جانچنا ہو تو ایک قسم کے سوال پوچھے جاتے ہیں اور اگر یہ دیکھنا ہو کہ بچے کو بتائی گئی بات کی کتنی سمجھ آئی ہے اور ا س کے ذہن نے بتائی گئی بات کو کتنا اور کیسا جذب کیا ہے، تو دوسری قسم کے سوال پوچھ جاتے ہیں اور اگر یہ دیکھنا ہو کہ بچے کا ذہن کتنا کام کرتا ہے اور وہ اپنی بات کو کس حد تک منطقی دلائل سے ثابت کر سکتا ہے یا یہ کہ وہ کسی غیر متوقع صورت حال کا سامنا کرنے کی کتنی اہلیت رکھتا ہے تو ایک تیسری ہی قسم کا سوال پوچھا جاتا ضروری ہو جاتا ہے۔ یعنی پوچھے گئے سوال کا مقصد ہمارے امتحانی نظام کے معیار کا براہ راست تعلق ان پوچھے جانے والے سوالوں کی کوالٹی سے بنتا ہے۔ دوسری چیز جو امتحان کے معیار کی ضامن بنتی ہے ، وہ ہے ان سوالوں کے جوابات کو جانچنے کا طریقہ اور انداز۔ اگر یہ جانچنا ژرف نگاہی اور غیر جانبداری سے ہو تو بچوں کی قابلیت کو درست انداز سے جانچا جاسکتا ہے لیکن اگر کوئی عدیم  الفرصت صاحب  اس کو بیگار جان کر بے دلی سے کر رہے ہوں تو یہ جانچ کاری درست نتائج کی حامل نہیں ہوسکتی۔ علاوہ دیگر مضمرات کے اس کے نتیجے میں طلباء میں اضطراب پیدا ہونا ایک قدرتی امر ہے۔
عام طور پر دیکھا یہ گیا ہے کہ بچے امتحان سے بہت گھبراتے ہیں۔ یہ کہنا کہ امتحان سے گھبراہٹ ہونا ایک فطری امر ہے، کسی حد تک تو درست ہوسکتا ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اس گھبراہٹ کی بہت سی اور وجوہات بھی ہوا کرتی ہیں۔ اُن میں سے سب سے بڑی وجہ تو یہی ہوتی ہے کہ بچہ امتحان کے لئے پوری طرح تیار نہیں ہوتا۔ اب اُس کی تیاری میں کیا اور کتنی کمی ہوتی ہے، اس بات کو جانچنا اور اُس کمی کو پورا کروانے کی ذمہ داری تو اساتذہ کرام ہی کے سر جاتی ہے لیکن اس کمی کو پورا کرنا تو بہر حال طلباء کا ہی فرض بنتا ہے۔ اس کمی کو پورا کرنے اور کروانے میں اساتذہ کو کیا کیا اقدامات لینے چاہئیں اور طلباء کو کیسے تیاری کرنی چاہئے، اس کا بھر پور جائزہ لینا  بہت ضروری ہے۔
سب سے پہلی بات تو یہی ہے کہ طلباء اور اساتذہ  اس کام پر آمادہ ہوں۔ جب تک طلباء پہ امتحان کی غرض و  غائیت  واضح کئے بغیر امتحان دلوائے جاتے رہیں گے وہ گائیڈز، خلاصے اور گیس پیپرز کا ہی سہارا لیتے رہیں گے۔ اور جب تک طلباء خود میں امتحان کا درست شعور اجاگر نہیں کر پائیں گے، وہ مجبوراً نقل ، میل ملاپ، سفارش اور زور زبردستی کے طریقے اختیار کرتے رہیں گے۔
اس ضمن میں سب سے پہلا کام جو حکومت کے کرنے کا بنتا ہے وہ یہ ہے کہ وہ خلاصوں، گائیڈوں اور گیس پیپرز کی طباعت اور اشاعت پر کڑی پابندی عائد کر دے۔ دوسرا کام جو اس کے بس میں ہے اور اُس ہی کے کرنے سے ہوگا وہ یہ کہ اساتذہ کرام کو بچوں کو امتحان کی تیاری کروانے کی تیکنیک سیکھانے کے لئے خصوصی پروگرامز مثلاً شارٹ کورسز اور تربیتی ورکشاپ  کا اہتمام کیا جائے۔ کتابیں پڑھانا اور امتحان کی تیاری کروانا دو بالکل الگ نوعیت کے کام ہیں اور یہ سمجھنا کہ محض ایک دو بار کتاب پڑھا دینے سے بچہ امتحان دینا بھی سیکھ جائے گا تو یہ ایک لحاظ سے ک فہمی ہی ہو سکتی ہے۔
جب تک حکومت تعلیمی بورڈوں کے ذریعے اس کام کو آغاز نہیں کر  پاتی اُس وقت تک اس صورت حال کو بہتر کرنے کے لئے سکولوں اور کالجوں کی انتظامیہ اس قسم کے پروگرام خود مقامی سطح پر کر سکتی ہے۔ اس کے نہ کرنے سے جو نقصان ہو رہا ہے،  اُس کا تذکرہ کرنے سے بہتر ہے کہ اس کام سے ہونے والے سب سے بڑے فائدے کی بات کی جائے۔ سب سے بڑا فائدہ یہی ہوگا کہ بچوں کا رزلٹ سچ مچ بہتر ہوتا چلا جائے گا اور انہیں ناجائز امتحانی ذرائع بھی اختیار نہیں کرنا پڑیں گے۔
ہمارے موجودہ نظام میں امتحان دینا اس لئے ایک تیکنیک کا درجہ اختیار کر گیا  ہے کیونکہ امتحان لینے والوں نے امتحانی سوالوں کی تیاری اور اُن کی جانچ کاری کو ایک مخصوص سانچے میں ڈھال دیا ہے۔ اُس سانچے اور پیٹرن کو سمجھے بغیر امتحان دینے بیٹھ جانے کا انجام یہی ہوتا ہے کہ بہت سے بچے تو بچے اُن کے والدین اور اساتذہ بھی یہی کہتے ملتے ہیں کہ بچہ یوں تو بہت لائق تھا، نہ جانے اس کو کیا ہوا کہ وہ امتحان میں اتنے اچھے نمبر ہیں آسکے۔ اور پھر اُس کے بعد امتحانی مراکز اور بورڈوں کی اندرونی حالتِ زار پہ تبصرے کرنے بیٹھ جاتے ہیں۔ اس بات کا کھوج لگانے کی ضرورت تھی کہ آخر وہ کیا کمی رہ گئی تھی کہ ایک لائق بچہ بھی امتحان میں حسبِ دلخواہ کامیابی حاصل نہیں کر سکا۔
کتاب پڑھ لینے، اُس کو سمجھ لینے اور اُس کے مندرجات کو یاد کرلینے کے بعد اگر اُس کتاب کی بابت کوئی بات دیافت کی جائے تو اُس کو زبانی طور پر بیان کرنا اتنا دشوار نہیں ہوا کرتا جتنا اُس کو لکھ کر بیان کرنا دشوار محسوس  ہوتا ہے۔ اس لئے پڑھنے کے ساتھ ساتھ لکھنے کی مشق ہونا بھی ضروری ہوتا ہے۔ لکھنے کی مشق کروانے کے لئے  اساتذہ  کو چاہئے کہ وہ بچوں کو خوشخطی اور تیز رفتاری سے لکھنے کی عادت کو پختہ کروائیں۔ یہ کام اساتذہ کی مسلسل نگرانی اور اعانت کے بغیر ہونا ممکن نہیں ہے۔ اس لئے اساتذہ کو اس سمت میں اپنا کردار بھرپور انداز میں انجام دینا ہی ہوگا۔
جب بچوں کو کتاب پڑھا دی جائے تو امتحان کی مشق کے نکتہ نظر سے بچوں کو بار بار ٹیسٹ دیا جائے۔ اس طرح سے اساتذہ اپنے بچوں سے اُن کے کلاس روم بار  بار امتحان لیں۔ اُن کے لئے بورڈ کے تیار کئے جانے والے پرچوں کی طرز پر سوالوں کے پرچے مرتب کریں۔ جب بچے حل کریں تو اُن کو پرچے حل کرنے کی تیکنیک بتائیں۔ یہ بھی بتائیں کہ دیئے گئے وقت میں ہی پرچے کو مکمل حل کرنے کے لئے وقت کو مطلوبہ سوالوں پہ کس طرح تقسیم کرنا چاہئے۔ ایک جواب کو کم سے کم کتنا اور زیادہ سے زیادہ کتنا لکھنا چاہئے۔ پرچوں میں لکھنے سے پہلے کاغذ کے دونوں طرف حاشیے لگانا کتنا ضروری ہے۔ نفسِ مضمون میں موجود نکات کو سرخیوں  اور ذیلی سرخیوں سے کیسے ابھارا جاتا ہے۔ اساتذہ بچوں کو اس پہ قائل کریں کہ تحریر کو لاگا تار لکھنے کی بجائے ہر ایک دو پیرا گرافس کے بعد  ایک آدھ سرخی لگانے سے تحریر کس طرح سج جاتی ہے۔ سرخیوں سے نکات واضح کر دینے سے ممتحن کو کیا سہولت رہتی ہے اور اس سے زیادہ نمبر کیوں ملتے ہیں۔
جب اساتذہ کرام پرچوں میں محض نمبر لگانے کی بجائے بچوں کے حل کئے ہوئے پرچوں میں موجود غلطیوں کی نشاندہی کریں گے کریں گے اور اس بات پہ اصرار کریں گے کہ آئندہ یہ غلطیاں دہرائی نہیں جانی چاہیں تو بچوں کو اس بات کی عملی طور پر آگاہی حاصل ہوگی کہ امتحانی پرچوں کو حل کرنے میں کیا کیا باتیں ضروری ہیں۔ تجربہ شاہد ہے کہ ان خطوط پر تیاری کرنے والے بچے امتحانوں میں نمایاں کامیابی حاصل کرلیتے ہیں۔
اس طرح سے تیاری کروانے کا ایک مزید فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ بچوں کو تین گھنٹوں تک لگا تار لکھنے کی مشق ہوتی ہے اور جب امتحان کے وقت انہیں لگاتار تین گھنٹے لکھنا پڑنا ہے تو ایسا کرنے میں انہیں کوئی وقت ہیں ہوتی۔ ورنہ تو امتحان گاہ میں یہ منظر ہر نگر ان کے مشاہدے میں رہتا ہے کہ اکثر بچے اِدھر اُدھر تانک جھانک کرنے اور لکھنے میں مصروف نظر آنے کی ایکٹنگ ہی کرتے رہتے ہیں۔
ممتحن حضرات کا پرچوں کو جانچنے کا کیا طریقہ ہوتا ہے؟ اگر اساتذہ کرام بچوں کو اس کی بابت بتائیں تو اس سے بچوں  میں اپنے پرچے کو ممتحن کے نکتہ نظر سے پیس کرنے میں سہولت پیدا ہوسکتی ہے۔ ممتحن حضرات جب ایک پرچے کو ہاتھ میں لیتے ہیں تو اُن کا تجربہ ایسا ذہن بنا چکا ہوتا ہے کہ وہ یا تو پرچے میں موجود خوبیوں کے نمبر لگاتے ہیں یا پھر خامیوں اور کمی کے نمبر کاٹنے کی پالیسی اپنا کر نمبر لگاتے ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ کوئی بھی یہ اندازہ تو ر نہیں سکتا کہ اُس کا ممتحن اُس کے پرچے کی خوبیوں کو زیادہ سرا ہے گا یا  اُس کی خامیوں پہ پکڑ زیادہ کرے گا۔ اس لئے اساتذہ کرام کو چاہئے کہ وہ بچوں پہ یہ امر بالکل واضح فرما دیں کہ ان دونوں ہی صورتوں سے عہدہ برآ ہونے کی بہترین حکمت عملی یہی بنتی ہے  کہ وہ اپنے پرچے میں پوچھے گئے سوال کے جواب کو بہترین انداز میں پیش کرنے کی مشق اور مزید مشق کرتے رہیں اور اس مشق کے لئے جیسے تیسے بھی بن پرے وقت نکالیں۔
اساتذہ کرام بچوں کو اس امر پہ قائل کرنے کو کہ  انہیں محنت کرکے امتحان  دینا سیکھنا چاہئے اس قسم کی دلیل دے سکتے ہیں کہ صرف اس ہی طرح وہ نقل اور دیگر ناجائز ذرائع پہ کسی بھی قسم کا کوئی انحصار کرنے کی سوچ کو ترک کر سکتے ہیں۔ اساتذہ کرام بچوں کو یہ دلائل دے کر تبھی قائل کرسکتے ہیں جب خود اُن کو پوری طرح واضح ہو کہ انہوں نے کیا کرنا ہے اور پانے بچوں سے کیا کروانا ہے۔ کیونکہ اس نصیحت کا کوئی بھی اثر وہ تبھی لیں گے جب انہیں کلاس روم میں پوری تن دہی اور توجہ سے محنت کرنا پڑ ے گی ورنہ تو اُن کی فطرت کا وہ رخ ہی زیادہ متحرک رہے گا جو تن آسانی اور سہل پسندی کو اُن کے لئے پر کشش بنا کر دکھاتا ہے۔ اساتذہ کرام ہر ہر قدم پہ اُن کے اس رحجان پہ نظر رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ بچوں کی توجہ زیادہ سے زیادہ اس امر کی طرف مبذول رہے کہ انہوں نے محنت کرکے اپنی اُن کمی کو پورا کرنا جس کی نشاندہی اُن کے اساتذہ نے کی ہے۔

علاوہ اور باتوں کے اس سے یہ بھی ہوتا ہے پورے سکول میں ایک خاص ماحول بن سکتا ہے۔ بچے اُس ماحول میں آکر خود بخود اُس کے زیرِ اثر آتے چلے جاتے ہیں۔ ایک دوسرے کو محنت کرتے دیکھتے ہیں تو اُن میں بھی یہ شوق پیدا ہوتا کہ وہ بھی کچھ کریں۔ اگر بچہ کچھ ایسا کرنے پر آمادہ ہوگیا جس سے اُس کا اپنا بھلا ہو سکتا ہو تو ایک استاذ اور ماں باپ کے لئے اس سے بڑھ کر خوشی کی بات اور کیا ہوسکتی ہے۔

نصابی سرگرمیاں

نصابی سرگرمیاں
درس و تدریس کی بات ہو تو نصابِ تعلیم اور اس نصاب سے متعلق سرگرمیوں کا ذکر کئے بغیر بات مکمل نہیں ہوسکتی۔ دیکھا جائے تو وقت کے ساتھ ساتھ محض مقررہ نصاب کی تکمیل کو ہی ہمارے نظامِ تعلیم کا بنیادی مقصد بنا دیا گیا ہے۔ درسگاہیں امتحانات میں کامیاب ہونے والے طلباء کی شرح کا صد فی صد ہونے اور کورس اور نصاب کا وقت مقررہ پہ ختم ہونے کو اپنی ایک بڑی کامیابی قرار دیتی  اور اُس کی تشہیر کرتی ہیں۔ امتحان میں کامیاب نہ ہو سکنے والے طلباء اپنی نا کامی کی ایک بڑی وجہ اسی بات کو قرار دیتے ہیں کہ ہمارے سکول یا کالج میں اس دفعہ کورس مکمل نہیں ہو سکا۔ ایسے طلباء ایک اور بات کا بھی بہت تذکرہ کرتے ہیں کہ اس دفعہ تو پرچے 'بالکل ہی آوٹ آف کورس' تھے۔ امتحان کے دوران اکثر اس بات پہ بہت لے دے بھی ہو جاتی ہے کہ پرچے میں پوچھے گئے  سوال تو ہم کو کبھی پڑھائے ہی نہیں گئے اس لئے ہم اس کا جواب بھلا کیسے دے سکتے ہیں۔ بعض اوقات تو بات اتنی بڑھا دی جاتی ہے کہ اخبارات و رسائل میں بھی اُس کی گونج سنائی دینے لگتی ہے۔
نصاب تعلیم کے حوالے سے اکثر اس بات کا بھی تذکرہ کیا جاتا ہے کہ ہمارا تدریسی نصاب وقت کے بدلتے ہوئے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ دورِ جدید کے علوم  کا احاطہ نہیں کرتا۔ اس میں وہی پرانی اور گھسی پٹی باتیں شامل رکھی جا رہی ہیں۔ اُدھر دوسری طرف نصاب مقرر کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اگر ہم اُن کی اس بات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کوئی نئی بات شامل نصاب کرتے ہیں تو تب یہ ہا ہا کار مچتی ہے کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟ اس مضمون کی بھلا کیا ضرورت تھی؟ ہماری معاشرتی قدروں پر اس کے اثرات اچھے نہیں ہوں گے اور نہ جانے کیا کچھ کہ دیا جاتا  ہے۔ ان حالات میں جب کچھ کیا جائے تب بھی بُرے بنے اور نہ کیا جائے تو تب بھی بُرا بننا پڑتا ہو، تو کوئی کیا کر سکتا ہے۔
اگر ہم ان سب باتوں کا  ایک سر سری سا جائزہ بھی لیں تو پہلی بات تو یہ سامنے آتی ہے کہ چونکہ نصاب کی تیاری حکومت نے اپنے ذمے  لے رکھی ہے اس لئے وہ اس میں اپنی ترجیحات اور مصلحتوں کو پیشِ نظر رکھتی ہے۔ حالانکہ ہے کہ حکومت یہ کہتی ہے کہ پورے ملک کو ایک نصاب دینے اور درس گاہوں کے علمی معیار کی یکسانی کی خاطر اس کو یہ ذمہ داری اپنے سر لینا پڑی ہے اور اس نصاب کہ کوئی اور نہیں بلکہ خود  اساتذہ ہی تیار کرتے اور ٹیکسٹ بکس  بورڈ تو فقط اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ایک سا نصاب پورے ملک کی درسگاہوں میں دستیاب کر دیا جائے۔
کچھ لوگ اس ضمن میں ایک اور زاویہ نظر بھی رکھتے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ نصاب کے حوالے سے اصل مسئلہ یہ ہے کہ یکسانی نصاب کے چکر میں بچے کے انفرادی افتاد طبع، میلانِ طبعیت اور رحجان ذوق کی بات بالکل ہی نظر انداز ہوجاتی ہے۔ ملک بھر کے بچے، جن میں ذہین اور فطین بچوں سے لے کر کند ذہن اور غبی قسم کے تمام ہی بچے شامل ہیں، جب ایک ہی نصابی کتاب پڑھیں گے تو سب اس سے یکساں فائدہ کیسے اور کیونکر اُٹھا سکتے ہیں۔ خاص طور پر جبکہ کسی بھی دو بچوں کی دلچسپیاں اور شوق مختلف ہی نہیں بلکہ بعض اوقات تو بالکل ہی متضاد ہوتے ہیں۔
غیر جانبداری سے تجزیہ کیا جائے تو ہم اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ تمام درس گاہوں کا علمی معیار یکساں ہو، خواہش کی حد تک تو یہ بات بہت ہی اچھی ہے لیکن کیا ایسا ہونا واقعی ممکن بھی ہو سکتا ہے یا نہیں؟ محض یکساں نصاب تیار کر دینے سے کیا تمام بچوں کے سیکھنے کی اہلیت بھی یکساں ہوسکتی ہے؟ کیا ہر استاذ اُس نصاب کو یکساں قابلیت سے پڑھا بھی سکتا ہے یا نہیں؟ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ بچوں کی انفرادی شخصیت، اُن کے سیکھنے کی اہلیت، ان کی دلچسپیوں کا تنوع اور اساتذہ کی قابلیت کا مختلف ہونا، ایسے حقائق ہیں جن کو نظر انداز کرتے ہوئے محض نصاب کو سب کے لئے یکساں بنا دینے سے درسگاہوں کا علمی معیار کبھی بھی نہ تو یکساں ہو سکتا ہے اور نہ ہی بہتر۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ درس و تدریس کے لئے جو نصاب طے کیا جاتا ہے اُس میں چند ایک ایسی باتوں کا ہونا ضروری ہوتا ہے جو طلباء اور اساتذہ دونوں کو تدریسی عمل کے لئے ایک اسی راہ کو فراہم کرنے میں مدد گار ثابت ہوں جس راہ پر اساتذہ اپنے تلامذہ کو لے کر قدم قدم آگے بڑھ سکیں۔ یعنی نصابِ تعلیم علم کی راہ کا تعین کرنا ہوتا ہے لیکن ہمارے یہاں اساتذہ اور طلباء دونوں نے اسی کو منزل قرار دیا ہوا ہے۔
نصابِ تعلیم کو اگر راہِ علم کے طور پر لیا جائے تو جو کچھ تعلیمی ماہرین طے کر دیتے ہیں، قابل اور اہل اساتذہ اپنے شاگردوں کو اسی راہ پر چلا کر بھی علم کی منزل تک پہنچا سکتے ہیں لیکن جب راہ گز رکو ہی منزل مان لیا تو پھر قدم کیوں کر آگے اور کونسی منزل کی طرف بڑھیں گے اور آخر کیوں بڑھیں گے؟ نصاب مرتب کرنے والے شاید اس بات کا مکمل ادراک رکھتے ہیں تبھی تو وہ نصابی کتب کے دیبا چوں میں یہ بات واشگاف لکھ دیتے ہیں کہ ہم نے جو کرنا تھا اور جو کچھ ہم  کرسکتے تھے ہم نے اپنی بساط کے مطابق کر دیا ہے اب باقی کام اساتذہ کرام کا ہے کہ وہ کلاسوں میں اپنے شاگردوں کو اس بات سے آگاہ کریں کہ یہ نصاب اس مضمون کے علم پہ حرفِ آخر نہیں ہے یہ تو محض ایک دریچہ ہے، ایک نشانِ راہ ہے، علم کی منزل نہیں ہے۔ منزل تک پہنچنے کے لئے مسافر کو خود ہی قدم بڑھانا ہوتے ہیں۔ کبھی کسی نے منزل کی طرف اشارہ کرکے راہنمائی کر دی یا قدم لینا سکھا دیا تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوسکتا کہ آپ منزلِ مراد تک بنا قدم اٹھائے ہی پہنچ سکیں گے۔ ایسا نہ تو کبھی ہوا ہے اور نہ ہی ہوسکتا ہے۔ لیکن کتنے لوگ ہیں جو ذوقِ مطالعہ سے اس حد تک آراستہ ہیں کہ درسی کتب کا دیباچہ تک اُن کے مطالعہ کی زد سے نہیں بچتا۔ عام مشاہدہ تو یہی ہے کہ لوگ درسی کتب کے صرف وہی ابواب پڑھنا گوارا کرتے ہیں جو امتحانی نکتہ نظر سے اہم ہوں۔ اس  وقت اس ملک میں شاید ہی کوئی ایسا قسمت استاذ ہو جس کے تلامذہ اُس سے امتحان کے دنوں میں Guess  نہ مانگتے ہوں۔
نصاب تعلیم میں جن چند تبدیلیوں کی حقیقتاً ضرورت ہے وہ یہ ہیں کہ ہر درجے کی اگر تمام نہیں تو چند ایک لازمی مضامین کی کتب میں ایسی مشقیں شامل کر دی جائیں جن پر عمل کرنے سے طلباء کی ذہنی سکت، شعور کی استعدادِ کار اور یکسوئی میں اضافہ ہو سکے۔ اور ان مشقوں پر عمل کروانے کا ایسا اہتمام ہو کہ بچے کا شعور زیادہ مزاحمت نہ کر سکے۔ کیونکہ دیکھا گیا ہے کہ کتنی ہی مفید بات کیوں نہ ہو، اگر انسان کے شعور میں وہ کوئی جگہ نہ بنا سکے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا کرتا، بلکہ اکثر شعور کی مزاحمت کے باعث وہ الٹا نقصان کا موجب بن جاتی ہے۔ اس لئے بہتر ہوگا کہ ہر درس گاہ میں ہر روز، ہر جماعت کے طلباء کو وہ مشق اجتماعی طور پر کروائی جائے بالکل اسی طرح جس طرح پی ٹی کروائی جاتی ہے۔ اجتماعی طور پر کام کرنے اور کروانے سے شعور کی مزاحمت کم ہوجاتی ہے۔ یہ بات تو اور بھی بہتر ہوگی کہ اگر ہر درس گاہ میں یہ اہتمام کر دیا جائے کہ تمام بچوں کو پندرہ بیس منٹ کی یہ مشقیں اسکول یا کالج کے اوقات میں اجتماعی طور پر کروا دی جائیں۔
اس قسم کی مشقوں کی ضرورت اور اہمیت اب اس لئے بھی بہت بڑھ گئی ہے کہ آج ہمیں جس دھماکہ خیز اطلاعاتی دھارے، 'بلاسٹ آف انفارمیشن' کا سامنا ہے، اس نے ہمارے اندر ایک ہیجانی کیفیت ہی پیدا نہیں کی بلکہ ہمیں ہر طرح کے انتشار کا شکار بنا دیا  ہے۔ اس منتشر الخیالی اور انتشار فکر کو روکنے اور اپنے ذہنوں میں یکسوئی اور ارتکاز توجہ پیدا کرنے کی ضرورت اور اہمیت سے تو اب بچے بھی انکار نہیں کر سکتے۔
اسی طرح دیکھا جائے تو امتحانی پرچے حل کرنے کے لئے جو تین گھنٹوں کا وقت مقرر کیا گیا ہے کیا وہ اسی مفروضے کے تحت نہیں کیا گیا کہ سب بچے ایک سی اہلیت، ایک سی قابلیت اور ایک ہی رفتار سے سوچنے اور لکھنے پر قادر ہیں۔ اس بات کا ا س بھی عجیب پہلو یہ ہے کہ پورا سال تو بچوں کو کبھی بٹھا کر ہم اُن سے لگا تار تین چار گھنٹے لکھنے کی مشق تو کرواتے نہیں اور سمجھتے ہیں کہ امتحان کے وقت بچے خود ہی کچھ کر لیں گے۔ اب بچے جو کچھ کرتے ہیں وہ تو یہ ہے کہ امتحان کے فو بیا کا شکار  ہو کر اعصابی مریض بن رہے ہیں اور یا پھر بوٹی مافیا کا رکن بننے کے چکر میں عقل کا پورا استعمال کرکے نقل کے نت نئے اور جدید طریقے وضع کر رہے ہیں۔ یہ سب کچھ وہ اس لئے کرتے ہیں کہ اُن کی محدود عقل اُن کو یہی آسان اور مختصر راستہ سُجھاتی ہے۔ اگر ہم نے اُن کو ذہنی طور پر یکسو ہونا اور دماغ کو موضوع پہ مرتکز کرنا سکھانے کے ساتھ ساتھ اُن کو تین گھنٹے لگا تار لکھنے کی سکت کا حامل بنا دیا ہوتا تو نہ تو وہ کسی فوبیے کا اور نہ ہی کسی مافیا کا شکار ہوتے۔
اکثر طلباء اور اساتذہ اس ضمن میں شاید یہ دلیل دیں کہ سکول یا کالج میں کوئی مشق لگا تار تین گھنٹے تک کروانا کیسے ممکن ہوسکتا ہے  جب کہ ایک پیرڈ پینتالیس یا چالیس منٹ سے زیادہ کا نہیں ہوتا اور پھر یہ تو بچوں کے لئے بہت ہی مشکل ہو جائے گا کہ کل پانچ چھ گھنٹوں کی پڑھائی  میں سے جن میں اتنے بہت  سے مضامین پڑھائے جانے ہوتے ہیں اب یہ مزید تین گھنٹے کہاں سے لائے جائیں ؟ اس بات کا ایک جواب تو یہ بنتا ہے کہ جب آپ پورے سال کی پڑھائی کا امتحان ایک ہی پرچے میں لگاتار تین گھنٹے لکھوا کر لینا کیوں ضروری سمجھتے ہیں؟ کیا اس سے بچوں کو مشکل نہیں ہوتی؟ جب بچے اس مشکل کو محنت کرکے آسان کرسکتے ہیں تو ہم اُن کو ان تین گھنٹوں کی اس آزمائش میں کامیاب کروانے کے لئے اُن کو زیادہ نہیں تو تین گھنٹوں کی مشق کیوں نہیں کروا سکتے؟ اس حوالے سے اگر یہ سوچ لیا جائے کہ ایک باکسر، پہلو ان یا کسی کھیل کا کوئی کھلاڑی جب کسی مقابلے میں حصہ لیتا ہے تو اُس مقابلے کے لئے تیاری میں صرف ہونے والا وقت اُس مقابلے کے دورانیے سے کئی گنا زیادہ نہیں ہوتا؟ اُس وقت تو یہ کہا جاتا ہے کہ کھلاڑی کا اسٹیمنا تب تک بن ہی نہیں سکتا جب تک وہ آدھے پونے گھنٹے کے کھیل کے لئے ہر روز کئی کئی گھنٹے ورزش اور اس کھیل کی مختلف انداز سے مشق کرنے میں صرف نہ کرے۔
اسی طرح اگر امتحان کے پرچوں کے دورانیے کے برابر وقت تک لکھنے کا اسٹیمنا پیدا کرنا ہوتا امتحان کے لئے تیاری کی خاطر کم از کم انتی ہی دیر تک لکھنے کی مشق کروانا ضروری ہو جاتا ہے۔ اس پر ہو سکتا ہے کہ یہ کہا جائے کہ سارا دن بچے سکول میں لکھنا پڑھنا ہی تو کرتے ہیں اب اُن کو الگ سے اس مشق کی بھلا کی ضرورت رہ  جاتی  ہے؟ اسکی بابت اتنا ہی کہا جاسکتا ہے کہ تین گھنٹوں میں چار پیریڈ میں چار اساتذہ سے مختلف مضامین پڑھنا، ان کی بابت اساتذہ سے وضاحتیں کروانا اور پوری یکسوئی سے لگا تار تین گھنٹے ایک مضمون کی بابت سوچنے اور لکھنے میں جو فرق ہے اس کا اندازہ لگانے کے لئے کسی خاص جمع تفریق کی بھی کوئی ضرورت نہیں۔ یہ دونوں صورتیں ایک نہیں ہو سکتیں اور نہ ہی یہ ایک ہیں۔
اس لئے اب اس تمام صورت حال کو درست کرنے کا جو درست طریقہ ہے اُس کو اپنانا چاہئے۔ درست طریقہ تو یہی ہے کہ ہم بچوں کی ذہنی سکت، یکسوئی اور ارتکازِ خیال میں اضافہ کرنے کا اہتمام کرنے کو اپنے نصابِ تعلیم کا ایک مناسب حد تک جزو بنا دیں۔ اس اہتمام کی ایک صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ماہرین نفسیات کے مشورے سے مختلف درجات کے طلباء کے لئے ایسی مشقیں تجویز کی جائیں جن پر عمل کرنے سے بچوں کے ذہنوں کا تزکیہ بھی ہوتا رہے اور کتھارسس بھی۔ ان مشقوں پہ عمل درآمد ہوگا تو  بچوں میں یکسوئی پیدا ہوگی اور وہ اپنے خیالات کو ایک نکتے پر مرتکز رکھنا بھی سیکھ جائیں گے۔ ذہنی یکسوئی اور ارتکاز کی صلاحیت بڑھنے کے ساتھ ساتھ اُن کی سکت بھی بڑھے گی، علمی استعداد میں بھی اضافہ ہوگا اور قوت کار میں بھی ترقی ہو گا اور ان سب سے بڑھ کر یہ ہوگا کہ  وہ سوچنا، سمجھنا اور غور و فکر کرنا بھی سیکھ جائیں گے۔ جب کسی فرد کو غور و فکر کرنا آجائے تو اس کی سوچوں میں گہرائی پیدا ہونے لگتی ہے۔ افکار میں گہرائی اور جامعیت ہو تو تب ہی شخصیت اور کردار بنتے ہیں۔ یعنی یہ سب ایک کڑی در کڑی عمل کی طرح ہوتا چلا جاتا ہے۔
موجودہ صورت احوال کچھ یوں ہے کہ اگر ہم اس زاویے سے اپنے نصابِ تعلیم کا جائزہ لیں کہ اس وقت ہمارے نصاب میں اس کری در کڑی عمل کو آغاز دینے کا کتنا اور کیا کچھ اہتمام کیا گیا ہے تو یہ دیکھ کر اپنی تہی دامنی پہ رونا آتا ہے کہ ہم نے یہ لکھ کر کہ جھوٹ نہیں بولنا چاہئے، لالچ بُری بلا ہے، غرور کا  سر نیچا ہوتا ہے، اور اس طرح کی بہت سی اچھی باتوں کو نصاب میں شامل کرکے یہ سمجھ لیا کہ محض اتنا لکھ دینے سے جھوٹ، لالچ اور غرور جیسی گہری جڑیں رکھنے والی بیماریوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔ ہم  یہ نہیں کہتے کہ ان مضامین کو نصاب میں شامل نہیں کیا جانا چاہئے بلکہ کہنے کا اصل مقصد یہ ہے کہ کیا محض چند مضامین شامل درس کرکے یہ سمجھنا کہ ہمارا فرض پورا ہوگیا، درست رویہ ہے؟ شخصیت میں بہتر تبدیلی تبھی لائی جاسکتی ہے جب اس کے لئے باقاعدہ اہتمام کیا جائے۔
نصابی سرگرمیوں سے محض خواندہ بنانے کی کوششیں ہرگز بھی مراد نہیں لی جانی چاہئے۔ خواندگی کو مطالعہ کی سیڑھی بنا کر علم میں اضافہ کرنے کی راہ ہموار کرنے کے علاوہ تعمیر و تنظیم شخصیت اور کردار سازی کے لئے عملی اقدامات کئے بغیر نہ نصاب مکمل ہوسکتا ہے اور نہ ہی تعلیم و تربیت۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے نصاب کو ان خطوط پہ استوار کریں جن سے ان مقاصد کا حصول ممکن ہوسکے جو نظامِ تعلیم کے حقیقی مقاصد ہوتے ہیں۔
یہاں اس بات کو بیان کر دینے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ نصاب تعلیم خواہ کتنا ہی ارفع اور اعلیٰ کیوں نہ ہو اگر اس پہ عمل درآمد درست اور صحیح انداز میں نہیں  ہوگا تو دلخواہ نتائج کا حصول خام خیالی کے سوا اور کچھ نہیں کہلا سکتا۔ قرآن حکیم سے بڑھ کر اور کونسا دستور العمل اور نصاب ہوگا لیکن جب اُس پر عمل نہیں کیا گیا اور نہ ہی کیا جا رہا ہے تو پھر ہم آخر اور کیا چاہتے ہیں؟ اللہ نے ایک دستور العمل دے کر ہم پر واجب کر دیا کہ ہم اس پر عمل پیرا ہو ں، خود غور کرنا سیکھیں اور اپنے اندر اُتر کر اُس علم تک رسائی حاصل کر لیں جس کی بابت یہ ارشاد ہوا ہے کہ یہ وہ علم ہے جو اللہ براہ راست اپنی رحمت سے اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے۔
اس علم کو علمائے باطن علم لُدنی کے نام سے جانتے ہیں۔ اسی علم کے جاننے والا ایک بندہ  پلک جھپکنے سے بھی کم وقت میں ملکہ بلقیس کا تخت حضرت سلیمانؑ کے دربار میں حاضر کرکے اپنے شرف کا ثبوت دیتا ہے اور نوعِ اجنہ پہ اپنی برتری عملی طور پر ثابت کر دیتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان کو اللہ نے مسجود ملائک کیا ہے۔ ای سبب سے انسان اشرف المخلوقات ہے۔ اب اگر انسان یہ سمجھتا ہے کہ وہ ملائکہ جنہوں نے اُس کو سجدہ کیا تھا اب اس کے کہنے کو نہیں مانیں گے تو یہ درست نہ ہوگا۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ وہ اس انسان کو کہنا مانتے ہیں جو اپنے علم میں اتنا بڑھا ہوا ہوتا کہ وہ اُن کو نہ صرف یہ کہ دیکھ بھی رہا ہوتا ہے بلکہ اُن سے گفتگو بھی کرتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اُن سے تبھی مخاطب ہوا جاسکتا ہے جب وہ نظر آ رہے ہوں۔ اگر وہ نظر ہی نہیں آرہے تو نہ تو اُن سے مخاطب ہوا جاسکتا ہے اور نہ ہی اُن سے اپنی بات منوائی جاسکتی ہے۔ علم لُدنی کا حامل فرد ہی ایسا بندہ ہوتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ اپنی نیابت سے سرفراز کیا کرتے ہیں۔
اِن سب باتوں کو اللہ نے حضورؐ کے ذریعے قرآن حکیم میں بیان کر دیا ہے۔ اَن تمام باتوں کو سمجھنے کی واحد شرط جو خود اللہ نے طے کر دی ہے  وہ اس الہامی کتاب کے مندرجات  پہ  غور و فکر کرنا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہم دنیا میں ترقی کریں اور اقوام عالم میں معزز اور ممتاز ہو جائیں تو ہمیں نہ صرف اُن باتوں کو سمجھنا ہوگا جو اللہ نے ممتاز اور معزز ہونے کے لئے ضروری قرار دے دی ہیں بلکہ اُن پہ عمل پیرا بھی ہونا پڑے گا۔ آج اقوام مغرب انہی باتوں پہ محض جزوی طور پر عمل کرکے اپنی دھاک بٹھائے ہوئے ہیں تو ہم ان باتوں پہ پوری طرح سے عمل کرکے معزز اور کیوں نہیں ہوسکتے؟ یہ نہیں ہے کہ ہم ایسا کرنا نہیں چاہتے ۔ ہم سب چاہتے  تو یہی ہیں لیکن کر اِس لئے نہیں پا رہے کہ ہم نے اصل بات کو درست طور پر سمجھا نہیں ہے ۔ کسی بھی بات کو عملی جامہ تبھی پہنایا جاسکتا ہے جب اُس کو اُس کی جزئیات سمیت پوری وضاحت کے ساتھ سمجھ لیا جائے۔
سمجھنے کی بات تو یہ بھی ہے کہ نوعِ انسانی کو خالقِ کائنات کا دیا ہوا  نصاب یعنی ' قرآن کو ہمارا نصاب ہونا چاہئے تھا یا نہیں؟ ہم نے کیا کیا ؟  ہم نے اپنے نصاب کو اجزائے قرآن سے سجانے کی بجائے قرآن حکیم کو اپنے نصاب کا جزو تو بنا لیا لیکن وہ بھی اس طرح سے کہ  نہ کسی سکول، نہ کسی کالج اور، حد تو یہ ہے کہ مولانا عبید اللہ سندھی کے مطابق، نہ ہی کسی دینی مدرسے میں قرآن فہمی کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اب جا کر کہیں اتنا تو ہونا شروع ہوا ہے کہ چند آیات قرآن فہمی کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اب جا کر کہیں اتنا تو ہونا شروع ہوا ہے کہ چند آیات قرآنی  کو با ترجمہ پڑھانے کو جزوِ نصاب بنا دیا گیا ہے۔ لیکن وہ بھی چونکہ محض خانہ پوری  کے انداز میں کیا گیا ہے اس لئے اساتذہ کرام بھی اُس میں واجبی سی دلچسپی لے کر حجت تمام کر رہے ہیں۔
بات کو درست طور پر سمجھنے کے لئے ذہن کو تیار کرنا پڑتا ہے۔ ذہن کی تیاری تبھی ممکن ہوسکتی ہے جب اس بات کو کچھ وقعت دی جائے اور اس کا کچھ اہتمام بھی کیا جائے۔ محض چند کتب میں سے کچھ منتخب حصوں کورٹ  کر ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہونے کی توقع رکھنے والوں کا وہی حشر ہوا کرتا ہے جو اس وقت ہمارا ہو چکا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے ذہن فہم وا دراک سے آراستہ ہوں تو اس کے لئے ہمیں ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جن سے انسان کے اندر تجسس کی فطری صلاحیت ابھرے، اُس کے اندر نا معلوم کرنے کا جذبہ بیدار ہو، وہ حقائق کو دریافت کرنے کے لئے آمادہ اور کمر بستہ رہے۔ جب تجسس کی حرکت کو مناسب راہ ملتی ہے تو ذہن میں گہرائی پیدا ہوتی ہے۔ ذہن کی گہرائی انسان کو اپنے معاملات کی درست فہم میں مددگار ہو جاتی ہے اور جب معاملات کی درست تفہیم ہو تو انسان کو تو موت بھی پریشان نہیں کرسکتی چہ جائیکہ کوئی عام سا مسئلہ بے چینی اور اضطراب کا سبب بن سکے۔


Featured Post

Donald Trump Signs Executive Order to Assure Security of Qatar – Full Details

  Donald Trump Signs Executive Order to Assure Security of Qatar – Full Details In late September 2025, former U.S. President Donald Trump ...